LIVE
Loading Breaking News...

جنوبی شام میں اسرائیلی تباہی: زرعی اراضی اور زندگیوں کو نقصان

News Image
اسرائیلی قابض افواج کی جانب سے جنوبی شام میں کی جانے والی کارروائیوں کے نتیجے میں وسیع پیمانے پر زرعی اراضی اور مقامی آبادی کی املاک کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ اس صورتحال نے خطے میں پہلے سے موجود تناؤ اور انسانی بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
جنوبی شام میں اسرائیلی قابض افواج کی جارحانہ کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے، جس کے نتیجے میں وہاں کے مقامی باسیوں کی زندگی اجیرن بن گئی ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، اس جارحیت کا سب سے بڑا نشانہ زرعی اراضی بنی ہے جہاں فصلوں اور باغات کو بڑے پیمانے پر تباہ کیا جا چکا ہے۔ اس تباہی نے نہ صرف کسانوں کی روزی روٹی کے ذرائع چھین لیے ہیں بلکہ پورے خطے میں غذائی تحفظ کے حوالے سے بھی سنگین خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے کی جانے والی اس تخریب کاری کا مقصد علاقے کے بنیادی ڈھانچے کو کمزور کرنا اور معاشی سرگرمیوں کو مفلوج کرنا ہے۔ زرعی اراضی کی تباہی کی وجہ سے کسانوں کو کروڑوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑا ہے اور کئی خاندان نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔ اس انسانی المیے نے مقامی سطح پر شدید غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے، جبکہ متاثرہ افراد نے بین الاقوامی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی جنوبی شام کی اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس طرح کی کارروائیاں بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور اس سے خطے میں دیرپا امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگ رہا ہے۔ جنگ سے متاثرہ اس خطے میں پہلے ہی بنیادی سہولیات کا فقدان ہے، اور تازہ ترین تباہی نے عام شہریوں کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔ متاثرہ علاقوں کے مکینوں اور مبصرین کا یہ مطالبہ ہے کہ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی ادارے فوری طور پر اس معاملے کا نوٹس لیں اور اسرائیلی جارحیت کو روکنے کے لیے عملی اقدامات کریں۔ اگر اس صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو جنوبی شام میں انسانی بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، جس کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہوں گے۔