Technology
پندرہ منٹ میں گھل جانے والا مستقل ٹیٹو پیچ متعارف
برطانوی بائیوٹیک کمپنی نے ایک ایسا جدید ترین پیچ تیار کیا ہے جو روایتی سوئیوں کے بغیر صرف پندرہ منٹ میں جلد پر مستقل ٹیٹو نقش کر دیتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی ٹیٹو سازی کے عمل کو نہ صرف درد سے پاک بناتی ہے بلکہ انفیکشن کے خطرات کو بھی نمایاں طور پر کم کرتی ہے۔
ٹیٹو سازی کی صنعت میں ایک انقلابی تبدیلی رونما ہو چکی ہے جس نے روایتی سوئیوں اور درد ناک عمل کی چھٹی کر دی ہے۔ لندن سے تعلق رکھنے والی بائیوٹیکل اسٹارٹ اپ کمپنی سائفر ایکس (CipherX) نے ایک ایسا منفرد اور جدید ترین پیچ تیار کیا ہے جو محض پندرہ منٹ کے اندر جلد پر مستقل ٹیٹو نقش کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس حیرت انگیز ٹیکنالوجی کے بانی فرڈیننڈ کوہلے اور کارل انٹون ہرمز ہیں، جن کی اس ایجاد نے دنیا بھر کے فیشن اور باڈی آرٹ کے شوقین افراد کی توجہ حاصل کر لی ہے۔ اس پیچ کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ استعمال کے بعد خود بخود جلد پر تحلیل ہو جاتا ہے اور روایتی ٹیٹو گن کے مقابلے میں کسی قسم کے درد یا خون بہنے کا باعث نہیں بنتا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایجاد ٹیٹو کے روایتی کاروبار میں ایک بہت بڑا سنگ میل ثابت ہوگی۔ اب تک ٹیٹو بنوانے کے لیے گھنٹوں سوئیوں کی چبھن برداشت کرنا پڑتی تھی اور اس کے بعد جلد پر انفیکشن یا الرجی کا خطرہ بھی لاحق رہتا تھا۔ تاہم اس جدید پیچ کے ذریعے نہ صرف اس تکلیف دہ عمل سے نجات مل گئی ہے بلکہ پیچ کی مدد سے بننے والے ڈیزائن انتہائی نفاست اور درستگی کے حامل ہوتے ہیں۔ سائفر ایکس کے بانیوں نے اس ٹیکنالوجی کو عام صارفین کے لیے محفوظ اور قابلِ رسائی بنانے کے لیے طویل تحقیق کی ہے، اور ابتدائی تجربات میں اس کے نتائج انتہائی شاندار رہے ہیں۔ اس نئی ٹیکنالوجی کے مارکیٹ میں آنے سے نوجوان طبقے میں اس کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے کیونکہ یہ نہ صرف سستا اور آسان ہے بلکہ اس کا دورانیہ بھی انتہائی کم ہے۔ آنے والے دنوں میں توقع کی جا رہی ہے کہ یہ پیچ دنیا بھر میں روایتی ٹیٹو پارلرز کا متبادل بن جائے گا اور لوگ گھر بیٹھے یا مختصر وقت میں اپنی پسند کے ڈیزائن بنوا سکیں گے۔