LIVE
Loading Breaking News...

اسپیس ایکس کے حصص میں 8 فیصد گراوٹ، سرمائے کے بھاری اخراجات کا انکشاف

News Image
اسپیس ایکس کی دوسری سہ ماہی کی آمدنی اور منافع توقعات سے بہتر رہا لیکن 18 ارب ڈالر کے بھاری سرمائے کے اخراجات نے سرمایہ کاروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا۔ اس اعلان کے بعد کمپنی کے حصص میں ٹریڈنگ کے دوران آٹھ فیصد سے زائد کی گراوٹ دیکھی گئی۔
خلائی تحقیقات اور ٹیکنالوجی کی معروف کمپنی اسپیس ایکس (SpaceX) کے حصص میں حالیہ کاروباری سیشن کے دوران آٹھ فیصد سے زائد کی نمایاں گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ حال ہی میں پبلک ہونے والی اس کمپنی کی جانب سے دوسری سہ ماہی کے مالیاتی نتائج جاری کیے گئے تھے جن میں آمدنی اور فی حصص منافع کے اعتبار سے وال اسٹریٹ کی توقعات کو شاندار طریقے سے پیچھے چھوڑ دیا گیا تھا۔ اس کے باوجود سرمایہ کاروں کا ردعمل منفی رہا جس کی بڑی وجہ کمپنی کے بھاری سرمائے کے اخراجات کا انکشاف تھا۔ کمپنی کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، دوسری سہ ماہی میں اسپیس ایکس کی کارکردگی مجموعی طور پر مضبوط رہی اور اس نے زبردست آمدنی حاصل کی۔ تجزیہ کاروں کی جانب سے لگائے گئے تخمینوں کے مقابلے میں کمپنی کا منافع اور ریونیو دونوں بہتر رہے تھے۔ تاہم، سرمایہ کاروں کی توجہ اس وقت مالیاتی نتائج کے مثبت پہلوؤں سے ہٹ کر سرمائے کے اخراجات (Capex) کی طرف چلی گئی جب کمپنی نے 18 ارب ڈالر کے بھاری کیپیکس کا انکشاف کیا۔ یہ رقم مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کی توقعات اور ماڈلز سے کئی ارب ڈالر زیادہ تھی۔ مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر سرمائے کے اخراجات ظاہر کرتے ہیں کہ اسپیس ایکس آنے والے وقتوں میں اپنے خلائی منصوبوں، سیٹلائٹ نیٹ ورکس اور اسٹار شپ جیسے بڑے پراجیکٹس پر بے پناہ وسائل خرچ کر رہی ہے۔ اگرچہ طویل مدتی ترقی کے نقطہ نظر سے یہ اقدامات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں، لیکن قلیل مدت میں اتنی بڑی نقدی کا اخراج اور بھاری سرمایہ کاری سرمایہ کاروں کے لیے تشویش کا باعث بنتی ہے کیونکہ اس سے فوری منافع کاری پر دباؤ پڑتا ہے۔ اسپیس ایکس کے اسٹاک میں ہونے والی اس اچانک کمی نے اس بات کو بھی اجاگر کیا ہے کہ حال ہی میں پبلک مارکیٹ میں آنے والی کمپنیاں کس طرح وال اسٹریٹ کی کڑی نظروں اور فوری نتائج کے دباؤ کا شکار ہوتی ہیں۔ اگرچہ کمپنی کے بنیادی کاروباری ماخذ اور خلائی خدمات کی مانگ میں کوئی کمی نہیں آئی ہے، لیکن سرمایہ کار اب ان اخراجات کے طویل المدتی اثرات کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ بھاری سرمایہ کاری مستقبل میں کس حد تک منافع بخش ثابت ہوگی۔