LIVE
Loading Breaking News...

ایورلائٹ اور نیشیا کے درمیان ایل ای ڈی پیٹنٹ تنازعہ شدت اختیار کر گیا

News Image
ایل ای ڈی پیکیجنگ بنانے والی معروف کمپنی ایورلائٹ الیکٹرونکس نے نیشیا کے خلاف امریکی عدالت میں پیٹنٹ کی مبینہ خلاف ورزی پر ایک نیا مقدمہ دائر کیا ہے۔ یہ دونوں کمپنیوں کے درمیان ایل ای ڈی ٹیکنالوجی کے حقوق کا تنازع کا تازہ ترین باب ہے۔
ایل ای ڈی پیکیجنگ کے شعبے میں معروف کمپنی ایورلائٹ الیکٹرونکس (Everlight Electronics) نے ایک بار پھر اپنے مد مقابل نیشیا (Nichia) کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے امریکہ میں ایک نیا پیٹنٹ کی خلاف ورزی کا مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ یہ قانونی کارروائی 30 جولائی کو مشی گن کے مشرقی ضلع کی یو ایس ڈسٹرکٹ کورٹ کے سدرن ڈویژن میں دائر کی گئی۔ کمپنی کے مطابق نیشیا کی جانب سے تیار کردہ ہائی پاور ایل ای ڈی مصنوعات میں ان کی ٹیکنالوجی کے حقوق کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ایورلائٹ کی جانب سے دائر کیے جانے والے اس تازہ ترین دعوے میں فلپ چپ ایل ای ڈی ٹیکنالوجی کو بنیادی مرکز بنایا گیا ہے۔ دونوں کمپنیوں کے درمیان اس نوعیت کا یہ تیسرا بڑا امریکی پیٹنٹ مقدمہ ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ایل ای ڈی انڈسٹری میں انٹیلیکچوئل پراپرٹی کے حقوق کی جنگ کتنی شدید ہو چکی ہے۔ اس سے قبل بھی دونوں فریقین ایک دوسرے کے خلاف اس طرح کے مقدمات دائر کر چکے ہیں جن کا مقصد مارکیٹ میں اپنی تکنیکی برتری اور مصنوعات کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔صحت اور روشنی کے شعبے میں استعمال ہونے والی جدید ایل ای ڈی مصنوعات آج کل دنیا بھر میں بڑی تجارتی اہمیت کی حامل ہیں، اور اسی وجہ سے ان کی ٹیکنالوجی پر اجارہ داری قائم رکھنے کے لیے قانونی لڑائیاں عام ہو چکی ہیں۔ قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ اس مقدمے کے نتیجے میں ایل ای ڈی انڈسٹری کے اندرونی تجارتی معاہدوں اور پیٹنٹ کے قوانین پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ ایورلائٹ کے وکلاء کا کہنا ہے کہ وہ اپنے پیٹنٹ رائٹس کے دفاع کے لیے ہر ممکن قانونی چارہ جوئی جاری رکھیں گے تاکہ مارکیٹ میں ان کی جدت طرازی کا ناجائز فائدہ نہ اٹھایا جا سکے۔