Entertainment
کانیے ویسٹ پر البمز میں AI کے استعمال پر مقدمہ دائر
مشہور امریکی گلوکار کانیے ویسٹ کو اپنے حالیہ البمز میں مبینہ طور پر مصنوعی ذہانت اور ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے غیر قانونی استعمال پر ایک نئے مقدمے کا سامنا ہے۔ مدعی کا الزام ہے کہ البمز 'ولچرز ٹو' اور 'بلی' میں ان کی اجازت کے بغیر تکنیکی آلات اور آواز کی نقل کی گئی۔
معروف امریکی ریپر اور گلوکار کانیے ویسٹ کو ایک بار پھر قانونی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے کیونکہ ان کے حالیہ اور انتہائی متنازعہ البمز میں مصنوعی ذہانت کے مبینہ استعمال پر ایک نیا مقدمہ دائر کر دیا گیا ہے۔ سنہ 2024 میں جب کانیے ویسٹ نے ٹائی ڈولا سائن کے ساتھ مل کر اپنا دوسرا جوائنٹ البم 'ولچرز ٹو' ریلیز کیا تھا، تو اسی وقت سے یہ افواہیں گردش کرنے لگی تھیں کہ انہوں نے اس البم میں اپنی ہی آواز کے ڈیپ فیک اور مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ورژنز کا استعمال کیا ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف ان کے مداحوں بلکہ موسیقی کی دنیا کے ماہرین کو بھی حیرت میں ڈال دیا تھا کیونکہ یہ اپنی نوعیت کا ایک منفرد معاملہ تھا۔
اب صورتحال مزید سنگین ہو چکی ہے جب ایک پروڈیوسر کی جانب سے باضابطہ طور پر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا ہے۔ اس نئے مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ نہ صرف 'ولچرز ٹو' بلکہ کانیے ویسٹ کے آنے والے البم 'بلی' میں بھی مصنوعی ذہانت یعنی AI کا غیر قانونی اور غیر اعلانیہ استعمال کیا گیا ہے۔ مدعی فریق کا مؤقف ہے کہ اس طرح کی تکنیک کے استعمال سے پروڈیوسرز اور دیگر فنکاروں کے حقوق کی پامالی ہوتی ہے اور یہ عمل کاپی رائٹ اور تخلیقی سالمیت کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔ اس مقدمے کے بعد میوزک انڈسٹری میں ایک بار پھر یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ آیا موسیقی میں مصنوعی ذہانت کا بے لگام استعمال جائز ہے یا نہیں۔
دوسری جانب کانیے ویسٹ یا ان کی قانونی ٹیم کی طرف سے اس نئے مقدمے پر تاحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے، تاہم ماضی میں بھی وہ اپنے منفرد اور متنازعہ طرزِ عمل کی وجہ سے خبروں کی زینت بنتے رہے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یہ الزامات عدالت میں ثابت ہو جاتے ہیں تو اس کا اثر نہ صرف کانیے ویسٹ کے کیریئر بلکہ پوری امریکی میوزک انڈسٹری پر پڑے گا، کیونکہ اس سے مصنوعی ذہانت کے استعمال سے متعلق نئے ضابطے اور قوانین وضع کرنے کی راہ ہموار ہوگی۔ ناظرین اور موسیقی کے شائقین اس اہم قانونی جنگ کے نتائج پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں جو آنے والے دنوں میں مزید سنسنی خیز انکشافات کا باعث بن سکتی ہے۔