Technology
اے آئی کی منتقلی اور ملازمتوں کا بحران: ورکرز کی کہانیاں
آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مقبولیت نے جہاں کئی شعبوں میں انقلاب برپا کیا ہے، وہیں یہ محنت کشوں اور لکھاریوں کے لیے شدید مشکلات کا باعث بھی بن رہی ہے۔ مریم جیسی کئی سابق مواد نگاروں کا کہنا ہے کہ ان کے مالکان نے پروڈکٹیویٹی کے نام پر اے آئی کے استعمال کی حوصلہ افزائی کی لیکن اس نے آسانیاں پیدا کرنے کے بجائے ملازمتوں کے بحران کو جنم دیا۔
جدید ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کے دور میں جہاں کارپوریشنز اپنے کام کو تیز رفتار بنانے کے لیے نت نئی تکنیکیں اپنا رہی ہیں، وہیں اس منتقلی کا سب سے بڑا بوجھ عام ورکرز اور بالخصوص مواد نگاروں (Content Writers) پر پڑ رہا ہے۔ دنیا بھر میں کئی ایسے ملازمین سامنے آ رہے ہیں جنہیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے خود اپنے ہاتھوں سے اپنی ملازمت کے خاتمے کا سامان تیار کیا ہے۔ مریم (فرضی نام) جیسی ایک سابق مواد نگار نے اپنے تجربے کا احوال بتاتے ہوئے کہا کہ ان کے ادارے نے انہیں اے آئی ٹولز کو بطور پیداواری معاون استعمال کرنے کی ترغیب دی تھی۔ شروعات میں یہ ایک مثبت تبدیلی محسوس ہوئی، لیکن جلد ہی اس کے بھیانک نتائج سامنے آنے لگے۔
مریم کے مطابق، جب انہوں نے اے آئی ٹولز کے ذریعے اپنی کارکردگی بہتر بنانے کی کوشش کی تو مینجمنٹ کی توقعات مزید بڑھ گئیں۔ کام کا بوجھ کم ہونے کے بجائے کئی گنا بڑھ گیا کیونکہ اب ان سے پہلے سے کہیں زیادہ مقدار میں مواد تیار کرنے کی توقع کی جا رہی تھی۔ اس غیر حقیقی دباؤ نے نہ صرف ملازمین کی ذہنی صحت کو بری طرح متاثر کیا بلکہ بالاخر اداروں کے لیے یہ عذر بھی فراہم کر دیا کہ وہ کم لاگت پر اے آئی کے ذریعے ہی سارا کام چلا سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر عملے کو فارغ کر دیا گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بہت سے اداروں میں اے آئی کا استعمال ملازمین کا بوجھ بانٹنے کے لیے نہیں بلکہ طویل مدتی بنیادوں پر افرادی قوت کو کم کرنے کی ایک خاموش سازش کے طور پر ہو رہا ہے۔ ورکرز کو پہلے یہ سکھایا جاتا ہے کہ وہ اے آئی کی مدد سے اپنا کام کیسے کریں اور جب وہ اس کے عادی ہو جاتے ہیں تو پھر خود انہی ورکرز کی ضرورت ختم ہو جاتی ہے۔ اس صورتحال نے محنت کش طبقے بالخصوص تخلیقی شعبے سے وابستہ افراد کو شدید ذہنی تناؤ اور روزگار کے عدم تحفظ کا شکار کر دیا ہے۔
مستقبل کے حوالے سے یہ سوالات شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں کہ کیا ٹیکنالوجی کی ترقی انسانی روزگار کو مکمل طور پر نگل جائے گی یا اس کے لیے کوئی متوازن لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتیں اور ادارے ایسے قواعد و ضوابط مرتب کریں جو اے آئی کے منفی اثرات سے ملازمین کے حقوق کا تحفظ کر سکیں، تاکہ ڈیجیٹل انقلاب انسانی ترقی کا ضامن بنے نہ کہ بے روزگاری کا طوفان۔