LIVE
Loading Breaking News...

میری شیرمین مورگن اور ہائیڈائن راکٹ ایندھن کی تاریخ

News Image
سال 1957 میں امریکی خاتون سائنسی محقق میری شیرمین مورگن نے ہائیڈائن نامی ایک مائع راکٹ ایندھن ایجاد کیا جس نے امریکہ کے خلائی پروگرام میں ایک نیا باب رقم کیا۔ ان کی اس شاندار کامیابی نے امریکہ کو خلاء میں قدم رکھنے اور سائنسی تاریخ بدلنے میں مدد دی۔
سائنسی تاریخ کے مطلع پر کئی ایسے نام چمکتے ہیں جنہوں نے دنیا کا نقشہ ہمیشہ کے لیے بدل ڈالا، مگر کچھ ایسے گمنام ہیرو بھی ہیں جن کی خدمات طویل عرصے تک پردہ خفا میں رہیں۔ ان ہی باصلاحیت شخصیات میں ایک نمایاں نام میری شیرمین مورگن کا ہے، جنہیں امریکہ کی پہلی خاتون راکٹ سائنس دان ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ سال 1957 کے دوران جب دنیا سرد جنگ کی لپیٹ میں تھی اور خلائی تسلط کے لیے امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان شدید مسابقت جاری تھی، اس نازک موڑ پر میری شیرمین نے ایک ایسا کارنامہ انجام دیا جس نے امریکہ کے خلائی پروگرام کو نئی زندگی بخشی۔ میری شیرمین مورگن نے 'یو ایس آرمی بالسٹک میزائل ایجنسی' کے ساتھ کام کرتے ہوئے ایک طاقتور مائع راکٹ ایندھن 'ہائیڈائن' (Hydyne) ایجاد کیا۔ یہ ایجاد اس وقت کے سائنسی معیار کے مطابق ایک انقلابی قدم تھا کیونکہ اس نے راکٹ کی کارکردگی اور رفتار میں کئی گنا اضافہ کر دیا۔ اس سے قبل امریکی خلائی کوششیں متعدد تکنیکی اور ایندھن سے جڑے مسائل کا شکار تھیں، جن کا حل تلاش کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکا تھا۔ ہائیڈائن ایندھن کی بدولت نہ صرف راکٹوں کی پرواز کو مستحکم بنایا گیا بلکہ اس نے امریکہ کے پہلے کامیاب سیٹلائٹ کی راہ بھی ہموار کی۔ اس ایندھن کی کامیابی نے ریاستہائے متحدہ کے لیے خلاء کے دروازے کھول دیے اور یوں خلاء کا سفر جو کبھی محض ایک خواب معلوم ہوتا تھا، حقیقت کا روپ دھار گیا۔ میری شیرمین مورگن کو ان کی اس فقیدالمثال کامیابی کے بعد پیار سے 'راکٹ گرل' بھی کہا جانے لگا۔ اگرچہ اس دور میں خواتین کے لیے سائنس اور بالخصوص ایرو اسپیس کے شعبے میں آگے بڑھنا انتہائی کٹھن اور پُرخار راستہ تھا، لیکن میری نے اپنی ذہانت، استقامت اور محنت کے بل بوتے پر تمام رکاوٹوں کو عبور کیا۔ ان کی زندگی اور کارنامے آج بھی دنیا بھر کی خواتین کے لیے ایک روشن مثال ہیں جو سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی کے شعبوں میں اپنا نام بنانا چاہتی ہیں۔ تاریخ ہمیشہ ان کی اس لازوال خدمات کو یاد رکھے گی جس نے انسان کو زمین کی قید سے نکال کر کہکشاؤں تک پہنچنے کا حوصلہ دیا۔