LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ میں واٹر یوٹیلیٹیز پر سائبر حملے اور ایران کا مبینہ کردار

News Image
امریکہ کے کم از کم سات مختلف حصوں میں میونسپل واٹر سسٹمز کو سائبر حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے جس کے بعد حکام نے سکیورٹی کے سخت انتظامات کی ہدایت کی ہے۔ اس گھناؤنے فعل کے پیچھے مبینہ طور پر ایران کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
امریکہ کی کم از کم سات ریاستوں میں واٹر یوٹیلیٹیز اور میونسپل واٹر سسٹمز کو خطرناک سائبر حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے، جس نے وفاقی اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کو الرٹ کر دیا ہے۔ حالیہ ہفتے کے دوران سامنے آنے والی ان کارروائیوں کے بعد فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) اور انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (ای پی اے) نے ملک بھر کی تمام یوٹیلیٹیز کو سخت سکیورٹی وارننگ جاری کی ہے تاکہ اہم بنیادی ڈھانچے کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔ ابتدائی تحقیقات اور تکنیکی شواہد کی بنیاد پر امریکی حکام کی جانب سے یہ شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان سائبر حملوں کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے حملے واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کے ڈیجیٹل کنٹرول سسٹمز کو مفلوج کرنے کے لیے کیے جاتے ہیں، جو عام شہریوں کی صحت اور صاف پانی کی فراہمی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔ سائبر سکیورٹی کے ماہرین نے بتایا ہے کہ اس حملے کا نشانہ بننے والے کچھ سسٹمز میں ایرانی نژاد ہیکرز یا ان سے وابستہ گروپس کے ڈیجیٹل نقوش ملے ہیں۔ اگرچہ تمام متاثرہ ریاستوں کے نام فوری طور پر عام نہیں کیے گئے ہیں، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ واٹر سسٹمز کو محفوظ بنانے کے لیے فوری طور پر ہنگامی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ وفاقی ادارے مقامی واٹر بورڈز کے ساتھ مل کر ڈیجیٹل سسٹمز کی آڈٹ اور فائر والز کو مضبوط کرنے پر کام کر رہے ہیں۔ اس صورتحال نے ایک بار پھر ملک کے اہم ترین بنیادی ڈھانچے بالخصوص واٹر اور پاور سیکٹر کی سائبر سکیورٹی پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ ماہرین نے زور دیا ہے کہ ریاستوں کے درمیان معلومات کا تبادلہ تیز کیا جائے تاکہ اس قسم کے دیگر ممکنہ حملوں کو بروقت ناکام بنایا جا سکے اور عوام کے بنیادی حقوق اور زندگی کو محفوظ رکھا جا سکے۔