World
جنوبی کوریا طلاق کا مقدمہ: ارب پتی چی تائے وون کو اربوں کی ادائیگی کا حکم
جنوبی کوریا کے ارب پتی کاروباری شخصیت چی تائے وون کو طلاق کے ایک طویل اور تاریخی مقدمے کے بعد اپنی سابقہ اہلیہ رو سوہ ینگ کو 645 ملین ڈالر ادا کرنے کا عدالت نے حکم دیا ہے۔ اس عدالتی فیصلے کو ملکی تاریخ کا سب سے بڑا تصفیہ قرار دیا جا رہا ہے۔
جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول کی ایک عدالت نے ملک کی تاریخ کے سب سے بڑے اور طویل ترین طلاق کے مقدمے میں فیصلہ سناتے ہوئے معروف ارب پتی کاروباری شخصیت چی تائے وون کو اپنی سابقہ اہلیہ رو سوہ ینگ کو تقریباً 645 ملین امریکی ڈالر کی خطیر رقم ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس ہائی پروفائل قانونی جنگ کو ملک میں 'صدی کی طلاق' کا نام دیا جا رہا ہے، جس نے کاروباری اور سیاسی حلقوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔ عدالت کا یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب دونوں فریقین کے درمیان طویل عرصے سے مالی اور خاندانی جائیدادوں کی تقسیم پر قانونی رسہ کشی جاری تھی۔ ارب پتی چی تائے وون جو کہ جنوبی کوریا کے بڑے صنعتی گروپ ایس کے (SK) کے چیئرمین ہیں، نے اپنی اہلیہ کو چھوڑ کر کسی اور خاتون کے ساتھ تعلقات استوار کیے تھے جس کے بعد یہ معاملہ عدالت تک جا پہنچا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ سابقہ اہلیہ رو سوہ ینگ کو کمپنی کی ترقی اور خاندانی اثاثوں میں ان کے والد کے سیاسی اثر و رسوخ کے تناظر میں یہ حصہ ملنا چاہیے۔ قانونی ماہرین کے مطابق یہ عدالتی فیصلہ جنوبی کوریا کے خاندانی قانون میں اب تک کی سب سے بڑی مالی مالیت کا حامل تصفیہ ہے۔ اس فیصلے سے نہ صرف چی تائے وون کی ذاتی دولت متاثر ہوگی بلکہ ایس کے گروپ کے کاروباری ڈھانچے اور حصص پر بھی اس کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس مقدمے نے ملک بھر میں بحث مباحثے کو جنم دیا ہے کہ کس طرح ازدواجی تنازعات بڑے صنعتی اداروں کے فیصلوں اور کارپوریٹ گورننس پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ دونوں فریقین کے وکلاء کی جانب سے اس فیصلے پر مزید قانونی چارہ جوئی کے حوالے سے بھی مشاورت جاری ہے، تاہم فی الحال یہ عدالتی حکم دنیا بھر کی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔