LIVE
Loading Breaking News...

فریج کے بغیر ویکسینز: عالمی صحت میں ایک نیا سنگ میل

News Image
سائنسدانوں نے ویکسینز کو ایک سال تک کمرے کے درجہ حرارت پر مستحکم رکھنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ اس انقلابی تحقیق سے دنیا بھر میں ویکسین کے ضائع ہونے کے تناسب میں بڑی کمی واقع ہو سکتی ہے۔
طبی سائنس کے شعبے میں ایک تاریخی پیشرفت سامنے آئی ہے جس کے تحت سائنسدانوں نے ویکسینز کو فریج یا سرد ماحول کے بغیر ایک سال تک کمرے کے عام درجہ حرارت پر بالکل محفوظ اور مستحکم رکھنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ ماہرین صحت کے مطابق دنیا بھر میں سپلائی چین کے مسائل اور کولڈ سٹوریج کی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے تقریباً نصف ویکسینز استعمال ہونے سے پہلے ہی خراب ہو جاتی ہیں اور انہیں ضائع کرنا پڑتا ہے۔ اس نئی تحقیق اور کامیابی سے اس دیرینہ مسئلے کا مستقل حل ملنے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔ تحقیق کے مطابق اگر ویکسینز کو کولڈ چین یعنی مسلسل ٹھنڈے ماحول کی ضرورت نہ رہے تو انہیں دنیا کے پسماندہ اور دور افتادہ ترین علاقوں تک پہنچانا انتہائی آسان ہو جائے گا۔ ترقی پذیر ممالک میں بجلی کی فراہمی میں تعطل اور ریفریجریشن کے ناقص انتظامات کی وجہ سے ویکسینیشن مہمات کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اب اس نئی ٹیکنالوجی کی بدولت ان رکاوٹوں کو عبور کیا جا سکے گا جس سے کروڑوں افراد کی زندگیوں کو بچانے میں مدد ملے گی۔ طبی ماہرین اس پیشرفت کو عالمی صحت کے شعبے میں ایک گیم چینجر قرار دے رہے ہیں کیونکہ اس سے نہ صرف ویکسینز کے ضائع ہونے کی شرح میں نمایاں کمی آئے گی بلکہ ویکسینیشن کی مجموعی لاگت میں بھی بڑی بچت ہوگی۔ آنے والے مہینوں میں اس ٹیکنالوجی کو مزید وسعت دینے اور بڑے پیمانے پر اس کے استعمال کے لیے تیاری کی جا رہی ہے تاکہ دنیا بھر کے طبی اداروں کو اس سے مستفید کیا جا سکے۔