Technology
اے ایم ڈی مالیاتی نتائج اور ڈیٹا سینٹر کی آمدنی میں اضافہ
چپ ساز کمپنی اے ایم ڈی نے اپنے ڈیٹا سینٹر کی آمدنی میں دگنا سے زیادہ اضافہ درج کیا ہے، تاہم سرمایہ کاری کے اخراجات میں اضافے کے خدشات کی وجہ سے بعد از وقت تجارت میں اس کے حصص کی قیمتوں میں گراوٹ دیکھی گئی۔ یہ مالیاتی نتائج توقعات کے مطابق تو تھے لیکن سرمایہ کاروں میں اخراجات کے حوالے سے تحفظات پائے جاتے ہیں۔
امریکہ کی معروف چپ ساز کمپنی ایڈوانسڈ مائیکرو ڈیوائسز (اے ایم ڈی) نے اپنے تازہ ترین مالیاتی نتائج کا اعلان کر دیا ہے، جس کے مطابق کمپنی نے ڈیٹا سینٹر کے شعبے میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی آمدنی میں دو گنا سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا ہے۔ مصنوعی ذہانت اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کی بڑھتی ہوئی مانگ کے پیش نظر اے ایم ڈی کا یہ شعبہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور مارکیٹ میں اپنے قدم مضبوط کر رہا ہے۔ کمپنی کے ان نتائج کا بنیادی محرک جدید ترین اے آئی چپس کی فروخت میں ہونے والا نمایاں اضافہ ہے، جس نے روایتی ہارڈ ویئر مارکیٹ میں کمپنی کی پوزیشن کو مزید مستحکم کیا ہے۔ باقاعدہ کاروباری سیشن کے دوران اے ایم ڈی کے حصص کی قیمتوں میں سات فیصد سے زیادہ کا اضافہ دیکھا گیا تھا، جس سے سرمایہ کاروں میں امید کی لہر دوڑ گئی تھی۔
تاہم، یہ جوش و خروش زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکا اور مارکیٹ بند ہونے کے بعد اضافی تجارت کے دوران کمپنی کے تمام ابتدائی فوائد زائل ہو گئے۔ اس کی بنیادی وجہ سرمایہ کاری کے بڑھتے ہوئے اخراجات (Capex) ہیں، جن کے بارے میں تجزیہ کاروں اور سرمایہ کاروں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ جدید ترین سیمی کنڈکٹرز کی تحقیق، ترقی اور پیداوار کے لیے بھاری سرمائے کی ضرورت ہوتی ہے، اور اے ایم ڈی اپنے حریفوں کا مقابلہ کرنے کے لیے انفراسٹرکچر پر کثیر رقم خرچ کر رہا ہے۔ اگرچہ کمپنی نے آمدنی اور منافع کے حوالے سے مارکیٹ کی توقعات کو بمشکل پورا کیا ہے، لیکن بڑھتے ہوئے اخراجات کے طویل المدتی اثرات نے حصص یافتگان کو محتاط کر دیا ہے۔
اس مالیاتی رپورٹ کے بعد وال اسٹریٹ پر بھی ملا جلا رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اے ایم ڈی مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں اینڈیا (NVIDIA) کو سخت مقابلہ دینے کی پوزیشن میں تو ہے، لیکن اس کے لیے کمپنی کو اپنے مالیاتی نظم و ضبط اور اخراجات کو متوازن رکھنا ہوگا۔ مستقبل میں کمپنی کی کامیابی کا دارومدار اس بات پر ہوگا کہ وہ اپنے ڈیٹا سینٹر کے منصوبوں سے کتنی جلدی منافع کماتی ہے اور آیا یہ بھاری اخراجات طویل مدت میں پائیدار ثابت ہوتے ہیں یا نہیں۔ سرمایہ کار فی الحال صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ قلیل مدتی مثبت خبر کے باوجود اسٹاک مارکیٹ میں مندی کا رجحان غالب رہا۔