LIVE
Loading Breaking News...

ایران جنگ کے تین ممکنہ انجام اور عالمی طاقتوں کا مستقبل

News Image
امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی عروج پر پہنچ چکی ہے اور جنگ کے پانچ ماہ بعد اسٹریٹجک منظرنامہ انتہائی پیچیدہ صورتحال اختیار کر گیا ہے۔ اس رپورٹ میں مشرق وسطیٰ کے تنازعے کے تین ممکنہ انجام اور عالمی سیاست پر اس کے اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مشترکہ فضائی حملوں کو پانچ ماہ گزرنے کے بعد خطے کا اسٹریٹجک منظرنامہ انتہائی غیر یقینی اور پیچیدہ صورتحال سے دوچار ہے۔ اس طویل اور تباہ کن کشیدگی نے مشرق وسطیٰ کو ایک نئے اور خطرناک دور میں داخل کر دیا ہے جہاں روایتی اتحادی اور حریف دونوں ہی اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کرنے پر مجبور ہیں۔ سفارتی حلقوں میں اب اس تنازعے کے ممکنہ انجام اور اس کے بعد کے عالمی اور علاقائی نظام پر گہرے تبصرے کیے جا رہے ہیں، کیونکہ اس جنگ کے نتائج محض دو ممالک تک محدود نہیں رہیں گے۔ موجودہ حالات کے تناظر میں تجزیہ کاروں نے تین اہم اسenarios یا انجام کی نشان دہی کی ہے جو اس پورے بحران کا رخ متعین کر سکتے ہیں۔ پہلے منظرنامے میں ایک طویل فرسودہ جنگ کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے جس میں دونوں فریقین ایک دوسرے کو بتدریج کمزور کرنے کی کوشش کریں گے اور اس کے نتیجے میں عالمی معیشت اور توانائی کی فراہمی کو شدید دھچکا لگے گا۔ دوسرے ممکنہ انجام کے تحت خطے میں طاقت کا توازن یکسر تبدیل ہو سکتا ہے، جہاں امریکہ کا روایتی تسلط کمزور پڑنے کے بعد دیگر عالمی طاقتیں جیسے کہ چین اور روس زیادہ فعال کردار ادا کریں گی۔ اس صورتحال میں بعد از امریکہ عالمی نظام کی تشکیل تیزی سے عمل میں آ سکتی ہے جس میں کثیر قطبی دنیا کے خدوخال واضح ہوں گے۔ تیسرا منظرنامہ ایک پائیدار جنگ بندی اور مذاکرات کی طرف واپسی کا ہے، تاہم موجودہ تلخی اور تناؤ کی سطح کو دیکھتے ہوئے اس کا امکان فی الحال کم نظر آتا ہے۔ تمام فریقین کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ اس جنگ کا ہر انجام خطے کے لاکھوں باسیوں اور عالمی تجارت کی قسمت کا فیصلہ کرے گا۔ آنے والے ہفتے اور مہینے اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ اس طوفان کا رخ کس طرف مڑتا ہے اور دنیا کس نئے توازن کی طرف بڑھتی ہے۔