Technology
جنگلات کی آگ اور ٹیکنالوجی: کیا کیمرے فائر فائٹرز کا متبادل بن سکتے ہیں
فرانسیسی کمپنی فائر ٹریکنگ جنگلات کی آگ کی بروقت نشاندہی کے لیے جدید کیمروں اور مصنوعی ذہانت کا استعمال کر رہی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی آگ پر قابو پانے کے روایتی طریقوں میں انقلاب برپا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
دنیا بھر میں جنگلات میں لگنے والی خوفناک آگ کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جس سے نہ صرف قیمتی جنگلات بلکہ انسانی بستیاں بھی خطرے میں پڑ جاتی ہیں۔ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے اب جدید ٹیکنالوجی بالخصوص کیمروں اور نگرانی کے سسٹمز کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ فرانسیسی کمپنی فائر ٹریکنگ اس شعبے میں پیش پیش ہے، جس کے جدید کیمرے اس وقت فرانس سمیت مختلف علاقوں میں لاکھوں ہیکٹر رقبے پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی آگ لگنے کے ابتدائی مرحلے میں ہی اس کی موجودگی کا پتہ لگا لیتی ہے تاکہ بروقت کارروائی کی جا سکے۔
فرانس کے علاقے اندر اینڈ لوئر میں اس کمپنی نے گیارہ نئے ڈیٹیکشن سائٹس نصب کیے ہیں، جو کسی بھی مشکوک دھوئیں یا حرارت کو فوراََ محسوس کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس نظام کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ روایتی گشت کے نظام کے مقابلے میں بہت کم وقت میں الرٹ جاری کر دیتا ہے۔ فائر فائٹرز کے لیے سب سے بڑا مسئلہ آگ کے پھیلنے سے پہلے اس کی درست جگہ کا تعین کرنا ہوتا ہے، اور یہ جدید کیمرے اس کام کو انتہائی درستگی اور تیزی کے ساتھ انجام دیتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی فائر فائٹرز کا مکمل متبادل تو نہیں بن سکتی، لیکن یہ ان کے کام کو انتہائی آسان اور موثر ضرور بنا سکتی ہے۔ آگ بجانے والے عملے کو بروقت اطلاع ملنے سے وہ کم نقصان کے ساتھ صورتحال پر قابو پا سکتے ہیں۔ جنگلات کی بڑھتی ہوئی آتش زدگی کے پیش نظر اس طرح کے سسٹمز کا استعمال وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے، اور آنے والے دنوں میں اس میں مزید وسعت متوقع ہے۔