Business
کسٹمر ایکسپیرینس اور تکنیکی قرض کی ذمہ داری
کاروبار میں تکنیکی قرض صرف انفراسٹرکچر کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ کسٹمر ایکسپیرینس اور مالیاتی رہنماؤں کو بھی اس کی ذمہ داری شیئر کرنی چاہیے۔ جدید کاروباری اداروں میں اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے اجتماعی حکمت عملی کی اشد ضرورت ہے۔
جدید کاروباری دنیا میں تکنیکی قرض یا ٹیل ٹیک ڈبت (Tech Debt) ایک ایسا اہم موضوع بن چکا ہے جس پر روایتی طور پر صرف انفارمیشن ٹیکنالوجی یعنی آئی ٹی محکمے کی توجہ ہوتی تھی۔ تاہم حالیہ ماہرانہ جائزوں سے یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ صرف آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ کو اس کا اکیلا ذمہ دار قرار دینا درست نہیں۔ انٹرپرائز سطح پر کسٹمر ایکسپیرینس (CX) اور مالیاتی رہنماؤں کو بھی اس ذمہ داری میں برابر کا شریک ہونا چاہیے تاکہ گاہکوں کو بہترین خدمات فراہمی میں کوئی رکاوٹ حائل نہ ہو۔ جب کاروباری ادارے اپنے نظام کو جدید بناتے ہیں تو اس دوران پیدا ہونے والے تکنیکی مسائل کا براہ راست اثر کسٹمر کے تجربے پر پڑتا ہے۔ اگر سی ایکس ٹیمیں اس تکنیکی قرض سے لاتعلق رہیں گی تو وہ گاہک کی توقعات پر پورا اترنے میں ناکام ہو سکتی ہیں۔ لہذا، یہ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ ادارے اپنے روایتی محکموں کی سرحدوں سے باہر نکل کر ایک مشترکہ لائحہ عمل تیار کریں۔ اس اشتراک عمل کے نتیجے میں نہ صرف تکنیکی مسائل کو بروقت حل کیا جا سکتا ہے بلکہ کمپنی کے مجموعی مالیاتی وسائل کا بھی بہترین استعمال ممکن ہو جاتا ہے۔ کسٹمر ایکسپیرینس کے ماہرین کو چاہیے کہ وہ آئی ٹی ٹیموں کے ساتھ مل کر کام کریں تاکہ ایسے حل تلاش کیے جائیں جو طویل مدت میں کاروبار کے لیے سودمند ثابت ہوں۔ اس اجتماعی سوچ کو فروغ دے کر کمپنیاں مارکیٹ میں حریفوں کے مقابلے میں زیادہ مستحکم اور موثر پوزیشن حاصل کر سکتی ہیں۔