Technology
وفاقی حکومت کا وزارتوں کو ڈیٹا پروٹیکشن کے سخت قوانین بنانے کا حکم
وفاقی حکومت نے نائیجیریا ڈیٹا پروٹیکشن ایکٹ 2023 پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے تمام وزارتوں کو ہدایات جاری کر دی ہیں۔ اس اقدام کا مقصد سرکاری سطح پر حساس معلومات کے تحفظ کو مزید موثر بنانا ہے۔
وفاقی حکومت نے ملک میں ڈیجیٹل سیکیورٹی اور معلومات کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے تمام وزارتوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ڈیٹا پروٹیکشن کے قوانین کو مزید سخت کریں۔ یہ احکامات نائیجیریا ڈیٹا پروٹیکشن ایکٹ 2023 کے تحت جاری کیے گئے ہیں، جس کا مقصد حکومتی اور عوامی سطح پر ڈیجیٹل ڈیٹا کے غلط استعمال کو روکنا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق تمام متعلقہ اداروں کو اس قانون پر اس کی روح کے مطابق عمل درآمد کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔
نئے احکامات کے تحت، ہر وزارت کو اپنے نظام میں ڈیٹا کی حفاظت کے لیے اندرونی سیکیورٹی پروٹوکولز کا جائزہ لینا ہوگا اور جہاں کہیں بھی کمزوریاں موجود ہیں، انہیں فوری طور پر دور کرنا ہوگا۔ اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ شہریوں اور سرکاری دفاتر کا حساس ڈیٹا کسی بھی قسم کی سائبر سیکیورٹی کی خلاف ورزی یا غیر مجاز رسائی سے محفوظ رہے۔ حکام کا ماننا ہے کہ بڑھتے ہوئے ڈیجیٹل خطرات کے پیش نظر اس قسم کے اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔
اس ہدایت نامے میں تمام وزارتوں کے اعلیٰ حکام کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے عملے کو ڈیٹا پرائیویسی اور سیکیورٹی کے جدید اصولوں سے روشناس کروائیں۔ حکومت کی جانب سے اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ڈیجیٹل گورننس کے دور میں شفافیت اور سیکیورٹی کا ساتھ ساتھ چلنا انتہائی ضروری ہے۔ متعلقہ اداروں سے کہا گیا ہے کہ وہ جلد از جلد اپنی رپورٹس پیش کریں تاکہ قوانین پر عمل درآمد کی نگرانی کی جا سکے۔