Pakistan
وزیراعظم کا بیان: کشمیر پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی حصہ ہے
وزیراعظم اور صدر پاکستان نے یوم استحصال کے موقع پر اپنے پیغامات میں کشمیریوں کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان کشمیری بھائیوں کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔
اسلام آباد: وزیراعظم پاکستان نے یوم استحصالِ کشمیر کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کا تنازع پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی اور اہم ترین سنگ بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت کی منصفانہ جدوجہد میں ان کے شانہ بشانہ کھڑا ہے اور ان کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت ہر سطح پر جاری رکھی جائے گی۔ وزیرِاعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جب تک کشمیری عوام کو ان کے بنیادی حقوق اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق آزادی نہیں مل جاتی، پاکستان عالمی فورمز پر ان کی آواز بلند کرتا رہے گا۔
دوسری جانب وزارتِ اطلاعات و نشریات (MOIB) اور ملک کی اعلیٰ سول و عسکری قیادت نے بھی یومِ استحصال کے موقع پر اپنے بیانات میں اس بات پر زور دیا ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اور خوشحالی کا قیام جموں و کشمیر کے منصفانہ اور پرامن حل کے بغیر ممکن نہیں۔ قیادت کا کہنا تھا کہ بھارت کی طرف سے 5 اگست 2019 کو آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد سے مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں جاری ہیں، جنہیں عالمی برادری کو فوری طور پر نوٹس میں لینا چاہیے۔
حکومتی اور عسکری حلقوں کی جانب سے جاری کردہ مشترکہ پیغامات میں اس بات کو اجاگر کیا گیا کہ بھارت کے جبری اقدامات اور ڈھونگی ڈرامے کشمیریوں کے جذبہ حریت کو کمزور نہیں کر سکتے۔ پاکستان نے عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی منظور کردہ قراردادوں پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں تاکہ جنوبی ایشیا میں دیرپا امن کی راہ ہموار ہو سکے اور خطے کے عوام جنگ و جدل کی بجائے ترقی کی راہ پر گامزن ہوں۔