LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان اور ایران کا دو طرفہ تجارت بڑھانے اور سرحدیں چوبیس گھنٹے کھلی رکھنے کا فیصلہ

News Image
پاکستان اور ایران نے باہمی تجارت کے حجم کو دس ارب ڈالر تک پہنچانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ دونوں برادر ملکوں کے درمیان سرحدی گزرگاہوں کو چوبیس گھنٹے کھلا رکھنے پر بھی اتفاق ہوا ہے۔
اسلام آباد: پاکستان اور ایران نے دو طرفہ تجارت کے حجم کو بڑھا کر دس ارب ڈالر تک پہنچانے کا تہیہ کر لیا ہے۔ اس سلسلے میں ایک اہم پیش رفت کے تحت دونوں ممالک نے سرحدی گزرگاہوں کو چوبیس گھنٹے کھلا رکھنے پر اتفاق کیا ہے تاکہ کاروباری برادری اور تاجروں کو سہولت میسر آ سکے اور سامان کی ترسیل بلا تعطل جاری رہ سکے۔ یہ فیصلہ تفتان اور دیگر سرحدی پوائنٹس پر تجارتی سرگرمیوں کو تیز کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والی اعلیٰ سطحی ملاقات کے دوران، ایران کے وزیر برائے صنعت، کانن اور تجارت سید محمد اتابک کی قیادت میں ایک وفد نے وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ملاقات کی۔ ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے باہمی تجارت کی راہ میں حائل تمام رکاوٹوں کو فوری طور پر دور کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس موقع پر تجارت کے فروغ، سیکیورٹی امور اور توانائی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے حوالے سے بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا تاکہ دونوں ہمسایہ ممالک کے دیرینہ تعلقات کو مزید مضبوط بنیادیں فراہم کی جا سکیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور تجارتی روابط کو نئی بلندیوں تک لے جایا جائے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ملکوں میں معاشی تعاون بڑھانے کی وسیع گنجائش موجود ہے جس سے خطے میں خوشحالی آئے گی۔ ایرانی وزیر تجارت نے بھی وزیراعظم پاکستان کے نقطہ نظر سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک پاکستان کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور دونوں اطراف سے عوامی سطح پر رابطے مزید بڑھائے جائیں گے۔ تجارت کے ماہرین نے اس فیصلے کو دونوں ممالک کی معیشت کے لیے انتہائی سودمند قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سرحدی گزرگاہوں کے چوبیس گھنٹے فعال رہنے سے بارڈر پر ہونے والی تاخیر کا خاتمہ ہوگا، اسمگلنگ کی حوصلہ شکنی ہوگی اور قانونی تجارت کو فروغ ملے گا۔ اس اقدام سے بالخصوص سرحدی علاقوں کے مکینوں کو براہ راست فائدہ پہنچے گا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، جو دونوں برادر ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے معاشی اعتماد کا منہ بولتا ثبوت ہے۔