LIVE
Loading Breaking News...

یمنی حوثیوں کا بحیرہ احمر میں تیل کے ٹینکرز پر حملے کا اعلان

News Image
یمنی حوثی تحریک نے بحیرہ احمر کے شمالی حصے میں تیل کے ٹینکرز کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے جس کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ اس پیش رفت سے خطے میں بحری تجارت اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے خدشات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
یمن کے حوثی گروپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اب بحیرہ احمر کے شمالی حصے میں بھی تیل کے ٹینکرز کو اپنے حملوں کا نشانہ بنائیں گے۔ یہ اعلان اس خطے میں پہلے سے جاری کشیدگی میں ایک نئے اور خطرناک اضافے کی علامت سمجھا جا رہا ہے، جس سے بین الاقوامی سمندری تجارت اور توانائی کے ذخائر کی ترسیل کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، حوثی فورسز نے حال ہی میں دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں سعودی عرب کے تیل کے ٹینکرز پر حملے کیے ہیں اور ایک مقام پر بلیسٹک میزائل کا استعمال بھی کیا گیا ہے۔ حوثیوں کی جانب سے ان کارروائیوں اور دھمکیوں کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، ان حملوں اور دھمکیوں کے باعث تیل کی قیمتیں ایک موقع پر 80 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئیں، کیونکہ سرمایہ کاروں اور توانائی کے تاجروں کو مشرق وسطیٰ میں رس رسد کی لائنوں کے رک جانے کا شدید خدشہ لاحق ہے۔ آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر کی صورتحال نے دنیا بھر کی معیشتوں کو تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے۔ عالمی منڈیوں میں فی الوقت ملے جلے رجحانات پائے جا رہے ہیں جبکہ سرمایہ کار اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ بحری گزرگاہوں اور اہم تجارتی راستوں کو کس طرح محفوظ بنایا جائے۔ اگر حوثی گروپ نے اپنے اس نئے اعلان پر عمل درآمد کیا تو اس سے نہ صرف سعودی عرب بلکہ دیگر عالمی توانائی برآمد کرنے والے ممالک کے لیے بھی مشکلات بڑھ سکتی ہیں، اور عالمی سطح پر مہنگائی کا ایک نیا طوفان آ سکتا ہے۔ سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس خطے میں بحری سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے بین الاقوامی سطح پر فوری اور مؤثر اقدامات کی شدید ضرورت ہے تاکہ عالمی معیشت کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔