Technology
کے اے یو ایس ٹی کی گیس سیپریشن ٹیکنالوجی اور توانائی بچانے والی نئی ممبرین
کنگ عبداللہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ماہرین نے صنعتی مقاصد کے لیے گیس کی علیحدگی کا ایک نیا اور توانائی دوست طریقہ دریافت کیا ہے۔ یہ نئی ٹیکنالوجی صنعتی شعبے میں توانائی کے ضیاع کو کم کرنے میں اہم سنگ میل ثابت ہوگی۔
کنگ عبداللہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (KAUST) کے ماہرین اور محققین نے صنعتی شعبے میں ایک اہم سائنسی کامیابی حاصل کرتے ہوئے گیس کی علیحدگی کے لیے ایک نئی اور انتہائی مؤثر توانائی بچانے والی جھلی (ممبرین) تیار کی ہے۔ اس نئی تحقیق سے صنعتی عمل کے دوران گیسوں کو الگ کرنے کے روایتی اور مہنگے طریقوں سے چھٹکارا ملنے کی توقع کی جارہی ہے، جس سے نہ صرف وقت کی بچت ہوگی بلکہ مجموعی اخراجات میں بھی نمایاں کمی واقع ہوگی۔
صنعتی عمل میں گیسوں کی علیحدگی ایک انتہائی اہم لیکن توانائی طلب مرحلہ سمجھا جاتا ہے، جس میں عام طور پر بڑی مقدار میں بجلی اور ایندھن استعمال ہوتا ہے۔ کے اے یو ایس ٹی کے سائنسدانوں کی جانب سے تیار کردہ اس جدید جھلی کی خاص بات یہ ہے کہ یہ کم توانائی کی کھپت کے ساتھ انتہائی درستگی کے ساتھ مختلف گیسوں کو ایک دوسرے سے الگ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے نفاذ سے فیکٹریوں اور کارخانوں کے کاربن فٹ پرنٹ کو کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔
ماہرین کے مطابق، اس نئی ممبرین کی تیاری میں جدید نینو میٹریلز اور سائنسی اصولوں کا استعمال کیا گیا ہے تاکہ اس کی پائیداری اور کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے۔ صنعتی اداروں کی طرف سے اس سائنسی پیش رفت کو سراہا جا رہا ہے کیونکہ یہ مستقبل کے پائیدار اور ماحول دوست صنعتی رجحانات سے ہم آہنگ ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں اس ٹیکنالوجی کو تجارتی پیمانے پر بھی استعمال کیا جائے گا تاکہ عالمی سطح پر توانائی کے بحران کا مقابلہ کیا جا سکے۔