LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ انتظامیہ کا ایران کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کو موقع دینے کا اعلان

News Image
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایران کے خلاف حملوں میں عارضی وقفے کا اعلان کیا ہے تاکہ سفارتی کوششوں اور مذاکرات کو آگے بڑھایا جا سکے۔ دونوں جانب سے حملے رکنے کے بعد خطے میں کشیدگی میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے۔
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اشارہ دیا ہے کہ ایران کے خلاف عارضی طور پر عسکری کارروائیاں روکنے سے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی مذاکرات کے دروازے کھل سکتے ہیں۔ عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے خلاف کسی بھی بڑی جنگی کشیدگی سے گریز کرنے کا فیصلہ کیا ہے، بالخصوص ایسے وقت میں جب سینیئر مشیروں نے وسیع تر جنگ کے خطرات اور اس کے معاشی اثرات پر شدید تشویش کا اظہار کیا تھا۔ نیویارک ٹائمز اور دیگر مؤقر جریدوں کے مطابق اس فیصلے کا مقصد تنازع کو مزید پھیلنے سے روکنا اور خطے میں امن کی بحالی کے لیے نئی سفارتی کوششوں کو موقع فراہم کرنا ہے۔ دوسری جانب تہران سے موصولہ اطلاعات کے مطابق، ایران نے بھی اس عارضی وقفے کا مثبت جواب دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ جب تک امریکی بمباری کا یہ وقفہ برقرار رہے گا، ایران کی طرف سے بھی جوابی حملے روک دیے جائیں گے۔ الجزیرہ اور رয়টারز کی رپورٹس کے مطابق، امریکہ اور ایران کے درمیان لڑائی میں اس حالیہ وقفے کو ایک تازہ سفارتی دور کی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس سے خطے کے عوام نے سکھ کا سانس لیا ہے۔ بین الاقوامی مبصرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان طویل مدتی کشیدگی فوری طور پر ختم نہیں ہوگی، تاہم اس عارضی جنگ بندی اور مذاکرات کے آغاز سے مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام کی ایک نئی امید ضرور پیدا ہو گئی ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی طاقتیں بھی اس پیش رفت کا خیرمقدم کر رہی ہیں اور فریقین پر زور دے رہی ہیں کہ وہ بات چیت کے ذریعے تمام دیرینہ مسائل کا پرامن حل نکالیں۔