Technology
مصنوعی ذہانت اور خواتین کا کیریئر، بھرتیاتی آلات پر سوالات
ملازمتوں کے حصول میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال پر سوالات اٹھنے لگے ہیں کہ آیا یہ ٹیکنالوجی خواتین کے لیے تعصب کا باعث بن رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق خواتین کو اپنے دوبارہ کیریئر کا آغاز کرنے میں الگ قسم کے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ملازمتوں کے حصول کے لیے استعمال ہونے والے جدید ترین مصنوعی ذہانت (AI) کے ٹولز کے حوالے سے یہ سوال تیزی سے پیدا ہو رہا ہے کہ کیا یہ ٹیکنالوجی خواتین کے کیریئر کو بالواسطہ نقصان پہنچا رہی ہے؟ خاص طور پر وہ خواتین جو اپنے کیریئر میں وقفے کے بعد دوبارہ کام کی دنیا میں واپس آنا چاہتی ہیں، انہیں اس ڈیجیٹل نظام کی وجہ سے اضافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ آج کے دور میں بڑی کمپنیاں ابتدائی مرحلے پر امیدواروں کی چٹھیوں اور سی ویز (CVs) کو شارٹ لسٹ کرنے کے لیے الگورتھم کا استعمال کرتی ہیں، جو بعض اوقات انسانی عناصر سے بھی زیادہ سخت ثابت ہوتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ الگورتھم ماضی کے ڈیٹا پر تربیت یافتہ ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ کیریئر میں کی جانے والی وقفوں کو منفی انداز میں لیتے ہیں اور اکثر خواتین اس کا شکار بن جاتی ہیں۔ اس صورتحال نے ملازمت کے متلاشی افراد اور خاص طور پر خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ بہت سی خواتین کا کہنا ہے کہ انہیں اپنے تجربے کو مصنوعی ذہانت کے معیار کے مطابق ڈھالنے کے لیے سی وی میں غیر ضروری تبدیلیاں کرنی پڑتی ہیں جسے وہ 'بوٹوکس' کا نام دیتی ہیں۔ کارپوریٹ دنیا میں اس بات پر بحث شروع ہو چکی ہے کہ کیا بھرتی کے اس نظام کو مزید جامع اور منصفانہ بنانے کی ضرورت ہے تاکہ کسی بھی صنف کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔ ماہرین کا مشورہ ہے کہ کمپنیوں کو مکمل طور پر اے آئی پر انحصار کرنے کے بجائے انسانی مداخلت کو بھی برقرار رکھنا چاہیے تاکہ کیریئر کے مختلف اور انوکھے راستوں کو سراہا جا سکے اور خواتین کو دوبارہ روزگار کے حصول میں مساوی مواقع مل سکیں۔