LIVE
Loading Breaking News...

تہران عمان ہرمز معاہدہ اور حوثی حملے - عالمی خبریں

News Image
ایران اور عمان نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے راستوں کے حوالے سے ایک اہم پیشرفت کرتے ہوئے باضابطہ اتفاق کر لیا ہے۔ دوسری جانب یمنی حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے تیل بردار ٹینکرز کو نشانہ بنایا ہے جبکہ اسرائیلی بمباری کا سلسلہ بھی لبنان میں جاری ہے۔
عالمی سطح پر جاری کشیدگی کے درمیان ایک اہم سفارتی اور علاقائی پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں تہران اور عمان نے انتہائی حساس سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی اور تجارتی راستوں کے حوالے سے آپسی اتفاق رائے حاصل کر لیا ہے۔ اس معاہدے کا مقصد خطے میں تجارتی سرگرمیوں کو محفوظ بنانا اور ممکنہ تنازعات کو کم کرنا ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی کلیدی رستہ ہے، جہاں سے دنیا کا ایک بڑا حصہ تیل اور گیس کی نقل و حمل کرتا ہے۔ اس سفارتی پیشرفت کے ساتھ ہی خطے میں مسلح تصادم اور حملوں کا سلسلہ بھی بدستور جاری ہے۔ اطلاعات کے مطابق یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے تیل کے ٹینکرز کو نشانہ بنایا ہے، جس سے بین الاقوامی جہاز رانی کی سیکیورٹی پر ایک بار پھر سوالیہ نشان لگ گئے ہیں۔ ان حملوں نے سمندری تجارت کے لیے نئے خطرات پیدا کر دیے ہیں اور عالمی طاقتیں اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ توانائی کی سپلائی لائنز کو محفوظ رکھا جا سکے۔ دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں پھیلنے والی آگ کے اثرات لبنان تک شدت کے ساتھ محسوس کیے جا رہے ہیں جہاں اسرائیلی جنگی طیاروں کی بمباری کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ اسرائیل کی جانب سے لبنان میں مختلف مقامات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں جانی و مالی نقصان کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ خطے میں بیک وقت جاری ان عسکری اور سفارتی سرگرمیوں نے ایک پیچیدہ صورتحال جنم دی ہے جس سے عالمی امن کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ بین الاقوامی برادری اور مبصرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ تہران اور عمان کے درمیان ہونے والا معاہدہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ایک مثبت کوشش ہے، تاہم حوثی حملے اور لبنان میں اسرائیلی بمباری اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ بحران کا حل ابھی دور ہے۔ عالمی رہنماؤں نے تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ مشرق وسطیٰ کو ایک بڑی جنگ سے بچایا جا سکے اور تجارتی راستوں کو پرامن رکھا جا سکے۔