World
میکسیکو میں لائیو سٹریم کے دوران ٹک ٹاک انفلوئنسر کا قتل
میکسیکو کی ریاست سینالوا کے دارالحکومت میں ٹک ٹاک لائیو سٹریم کے دوران فائرنگ سے معروف انفلوئنسر سیزر گاسٹیلم ہلاک ہو گئے۔ یہ واقعہ ایک کار پارک میں پیش آیا جہاں وہ اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ موجود تھے۔
میکسیکو میں سوشل میڈیا کی دنیا اس وقت صدمے سے دوچار ہو گئی جب ایک معروف ٹک ٹاک انفلوئنسر کو لائیو سٹریمنگ کے دوران فائرنگ کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ یہ لرزہ خیز واقعہ میکسیکو کی ریاست سینالوا کے دارالحکومت کلیاکان میں پیش آیا، جہاں سیزر گاسٹیلم نامی انفلوئنسر اپنی ایک لائیو ویڈیو شوٹ کر رہے تھے۔ اس اندوہناک واقعے نے سوشل میڈیا کمیونٹی اور عام شہریوں میں شدید خوف و ہراس اور تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق، سیزر گاسٹیلم واقعے کے وقت شہر کے ایک کار پارک میں بیٹھے ہوئے تھے اور ان کے ساتھ دو دیگر افراد بھی موجود تھے۔ اسی دوران نامعلوم مسلح افراد نے وہاں پہنچ کر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی، جس کے نتیجے میں سیزر گاسٹیلم شدید زخمی ہو گئے اور موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ پولیس اور امدادی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچیں اور لاش کو تحویل میں لے کر اسپتال منتقل کیا، جہاں ڈاکٹروں نے ان کی موت کی تصدیق کر دی۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس حملے کے محرکات جاننے کے لیے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے اور کار پارک کے اردگرد لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کو بھی حاصل کیا جا رہا ہے۔ اس بات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے کہ آیا یہ حملہ کسی ذاتی دشمنی کا نتیجہ تھا یا اس کا تعلق لائیو سٹریمنگ اور سوشل میڈیا کی سرگرمیوں سے ہے۔ ریاست سینالوا میں اس قسم کے پرتشدد واقعات کے تناظر میں سکیورٹی فورسز نے علاقے میں ناکہ بندی کر کے ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے۔
دوسری جانب، سوشل میڈیا صارفین اور مقتول کے مداحوں کی جانب سے شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر انصاف کے لیے آواز اٹھائی جا رہی ہے جبکہ اس بات پر بھی بحث چھڑ گئی ہے کہ ڈیجیٹل دنیا کے تخلیق کار کتنے غیر محفوظ ہوتے جا رہے ہیں۔ واقعے کے بعد سے میکسیکو میں انفلوئنسرز کی سکیورٹی اور آن لائن لائیو براڈکاسٹنگ کے خطرات پر ایک بار پھر سنجیدہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔