LIVE
Loading Breaking News...

باب المندب کی ناکہ بندی اور عالمی شپنگ کے خطرات

News Image
باب المندب آبنائے کی ناکہ بندی اور حوثی حملوں نے عالمی سمندری تجارت کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ خطے میں جاری کشیدگی کی وجہ سے تیل کی سپلائی اور جہاز رانی متاثر ہو رہی ہے۔
باب المندب آبنائے کی حالیہ ناکہ بندی اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی سطح پر سمندری تجارت اور توانائی کی فراہمی کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ یمن کے حوثی باغیوں کی طرف سے سعودی عرب کے تیل کے تنصیبات اور بحری جہازوں پر حملوں کے بعد ریڈ سی میں شپنگ کی نقل و حرکت میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ اس صورتحال نے بین الاقوامی منڈیوں میں اضطراب پیدا کر دیا ہے کیونکہ یہ گزرگاہ دنیا بھر کے تجارتی بحری جہازوں کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی محاذ آرائی اس خطے کو ایک نئے اور خطرناک محاذ میں تبدیل کر رہی ہے جہاں کسی بھی وقت بڑا بحران جنم لے سکتا ہے۔ سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان متواتر فائرنگ کے تبادلے نے اس تجارتی راستے کو مزید غیر محفوظ بنا دیا ہے۔ بین الاقوامی برادری اور بڑی معیشتیں اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ عالمی سپلائی چین کو بچایا جا سکے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر آبنائے باب المندب میں امن و امان کی بحالی کے لیے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہو سکتا ہے جس سے پہلے ہی مشکلات کا شکار عالمی معیشت کو مزید دھچکا لگے گا۔