World
آئرلینڈ کا سرکاری طیارہ دھند میں لینڈنگ سے قاصر، اسرائیلی نیوی گیشن سسٹم ہٹانے کا انکشاف
آئرلینڈ کے رہنما کے مہنگے ترین سرکاری طیارے کا نیوی گیشن سسٹم اس لیے ہٹا دیا گیا کیونکہ وہ اسرائیل میں تیار کیا گیا تھا۔ اس تبدیلی کے بعد اب مبینہ طور پر یہ طیارہ گھنے کوہرے اور دھند کے دوران لینڈنگ کرنے میں شدید مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے۔
آئرلینڈ کے سیاسی اور دفاعی حلقوں میں اس وقت ایک عجیب و غریب صورتحال پیدا ہو گئی ہے جب یہ انکشاف ہوا کہ ملک کے رہنما کے سرکاری جیٹ طیارے کا نیوی گیشن سسٹم مبینہ طور پر اس لیے ہٹا دیا گیا کیونکہ وہ اسرائیل میں تیار کیا گیا تھا۔ اس اہم فیصلے کے بعد اب یہ طیارہ گھنے کوہرے یا خراب موسم اور دھند کے دوران لینڈنگ کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو سکتا ہے، جس پر سکیورٹی اور سفارتی امور پر گہری بحث چھڑ گئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق آئرش رہنما مائیکل مارٹن کا یہ پینپن کروڑ (تقریباً پینتالیس ملین پاؤنڈ) مالیت کا ڈیسالٹ فالکن جیٹ طیارہ بین الاقوامی دوروں اور اہم سرکاری مصروفیات کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ تاہم، طیارے میں نصب نیوی گیشن کے بعض آلات کے اسرائیلی ساختہ ہونے کا انکشاف ہونے کے بعد انتظامیہ نے سخت اقدام اٹھاتے ہوئے انہیں فوری طور پر ہٹانے کا حکم دے دیا، جس کے نتیجے میں طیارے کی جدید ترین لینڈنگ کی صلاحیتیں متاثر ہوئی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے اگرچہ سیاسی اصولوں کی پاسداری کی گئی ہے، لیکن عملی طور پر طیارے کی پروازوں کی حفاظت اور بحران کی صورت میں بروقت لینڈنگ پر سوالیہ نشان لگ گئے ہیں۔ خراب موسم اور دھند کے دوران پائلٹس کو نیوی گیشن سسٹمز کی اشد ضرورت ہوتی ہے، اور ان آلات کی موجودگی کے بغیر طیارے کو اڑانا یا اتارنا ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے، بالخصوص ایسے وقت میں جب عالمی سطح پر فضائی حفاظت کے معیارات انتہائی سخت ہیں۔
اب تک آئرش حکومت یا متعلقہ حکام کی جانب سے اس معاملے پر مزید تفصیلی بیان سامنے نہیں آیا، تاہم اس متنازعہ اقدام نے دفاعی اور تکنیکی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ عوام اور سیاسی ناقدین اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا تکنیکی ضرورتوں کو پسِ پشت ڈال کر اس قسم کے فیصلے کرنا ملکی مفاد میں ہے یا نہیں، جبکہ آنے والے دنوں میں اس جیٹ طیارے کی مرمت اور متبادل نظام کی تنصیب کے حوالے سے مزید اقدامات متوقع ہیں۔