World
ایران میں سیاسی ہلچل: خامنہ ای کی صدر پزشکیان کو وارننگ
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے صدر مسعود پزشکیان کو استعفیٰ کی دھمکی دینے پر سخت وارننگ دی ہے۔ اس دوران ایرانی صدر نے آبنائے ہرمز سے متعلق مذاکرات کے دوران استعفیٰ کی دھمکی دینے کی تردید کی ہے۔
تہران سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ملک کے صدر مسعود پزشکیان کو ان کی مبینہ استعفیٰ کی دھمکیوں کے تناظر میں سخت وارننگ جاری کی ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایرانی سیاسی حلقوں میں اندرونی چپقلش اور اعلیٰ ترین سطح پر مواصلاتی مسائل کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان تعلقات میں تناؤ کی خبریں گردش کر رہی ہیں، جن میں آبنائے ہرمز سے متعلق اہم پالیسی امور پر اختلافات بھی شامل ہیں۔
دوسری جانب، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں یہ کہا گیا تھا کہ انہوں نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے ہونے والے مذاکرات کے دوران اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کی دھمکی دی تھی۔ صدر پزشکیان کا کہنا ہے کہ اس قسم کی افواہوں کا مقصد ملکی انتظامیہ میں عدم استحکام پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ موجودہ حالات میں بعض امور اور حلقوں کے ساتھ رابطہ کاری انتہائی مشکل ہو چکی ہے، جس سے انتظامی امور میں کچھ پیچیدگیاں پیدا ہو رہی ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، ایران کے سیاسی منظر نامے میں یہ صورتحال ایک ایسے وقت میں ابھری ہے جب ملک کو اندرونی معاشی دباؤ کے ساتھ ساتھ خطے میں اہم جیو پولیٹیکل چیلنجز کا سامنا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ایرانی حکومت کو اس وقت اندرونی ہم آہنگی برقرار رکھنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ بیرونی دباؤ کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کیا جا سکے، کیونکہ قیادت کے اندرونی اختلافات کی خبریں ملک کی پالیسی سازی پر اثرانداز ہو سکتی ہیں۔