LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ کے میزائل ذخائر میں کمی، دوبارہ فراہمی میں تاخیر کا خدشہ

News Image
رپورٹس کے مطابق ایران کے ساتھ تنازع کے نتیجے میں امریکہ کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے اور دفاعی میزائلوں کے ذخائر انتہائی کم ہو چکے ہیں۔ ان ذخائر کو دوبارہ مکمل کرنے میں کئی سال کا وقت لگ سکتا ہے جبکہ اس صورتحال پر حکام میں بھی بحث جاری ہے۔
واشنگٹن سے موصولہ اطلاعات کے مطابق امریکہ کے پاس موجود جدید میزائلوں کے ذخائر میں انتہائی تشویشناک حد تک کمی واقع ہو چکی ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ ان ذخائر کو ان کی سابقہ سطح پر واپس لانے کے لیے سالوں کی محنت درکار ہوگی۔ ذرائع کے مطابق حالیہ جنگی صورتحال اور تنازعات کے دوران امریکہ نے اپنے طویل فاصلے تک مار کرنے والے اور انتہائی درست نشانہ بنانے والے میزائلوں کا ایک بڑا حصہ استعمال کر لیا ہے، جس سے دفاعی تیاریوں پر سوالیہ نشان لگ گئے ہیں۔ دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس صورتحال نے ملک کی عسکری صلاحیتوں کو محدود کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایک اہم میزائل دفاعی نظام کے لیے استعمال ہونے والے قریب اسی فیصد تک انٹرسیپٹرز بھی ختم ہو چکے ہیں، جو کہ ملکی سلامتی کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتے ہیں۔ اس صورتحال نے پینٹاگون اور عسکری قیادت کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، کیونکہ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان دفاعی سازوسامان کی کمی کسی بھی بڑے بحران کے وقت مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔ دوسری جانب کچھ امریکی حکام ان رپورٹس کو بڑھا چڑھا کر پیش کیے جانے کے دعوے بھی کر رہے ہیں اور ان کا اصرار ہے کہ دفاعی تیاری تسلی بخش ہے۔ تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دفاعی صنعت کی موجودہ پیداواری صلاحیت کے پیش نظر میزائلوں کی مطلوبہ تعداد بحال کرنا ایک طویل المدتی عمل ثابت ہوگا، جس کے لیے صنعتوں کو اپنی پیداوار بڑھانا ہوگی۔ اس تمام صورتحال کے تناظر میں سیاسی حلقوں اور عسکری قیادت کے درمیان بھی اس بات پر بحث جاری ہے کہ دفاعی بجٹ اور ترجیحات کو کس طرح ترتیب دیا جائے تاکہ مستقبل کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے ذخائر کو فوری طور پر محفوظ بنایا جا سکے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں دفاعی کمزوری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔