Politics
ٹرمپ انتظامیہ کا 100 ارب ڈالر کے ٹیرف واپس کرنے کا فیصلہ
امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے سابق صدر ٹرمپ کے عائد کردہ وسیع تر ٹیکسوں کو مسترد کیے جانے کے بعد انتظامیہ نے سو ارب ڈالر کی رقم واپس کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ پیش رفت حالیہ عدالتی فیصلوں کے تناظر میں سامنے آئی ہے جن میں ان ٹیرفز کو غیر قانونی قرار دیا گیا تھا۔
واشنگٹن: امریکی تاریخ میں ایک اہم مالیاتی اور قانونی موڑ پر، ٹرمپ انتظامیہ نے ایک سو ارب ڈالر کے ٹیرف واپس کرنے کا باضابطہ فیصلہ کیا ہے۔ یہ احکامات اس وقت سامنے آئے جب رواں سال فروری کے مہینے میں امریکی سپریم کورٹ نے ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ حکومت میں لگائے گئے وسیع پیمانے پر ٹیکسوں اور درآمدی ڈیوٹیوں کو آئین اور قانون کے منافی قرار دیتے ہوئے کالعدم کر دیا تھا۔ سپریم کورٹ کے اس سخت فیصلے کے بعد ملکی اور بین الاقوامی سطح پر تجارتی حلقوں میں ایک ہلچل مچ گئی تھی اور تاجروں کی جانب سے کسٹم ڈیوٹیوں کی واپسی کے لیے شدید دباؤ ڈالا جا رہا تھا۔
ذرائع کے مطابق یہ بھاری بھرکم رقم ان درآمد کنندگان اور تجارتی اداروں کو واپس کی جا رہی ہے جنہوں نے سابقہ انتظامیہ کے دوران بھاری بھرکم ٹیرف ادا کیے تھے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے میں واضح کیا گیا تھا کہ صدر کے پاس اتنے وسیع اختیارات نہیں ہیں کہ وہ قانون ساز ادارے کی منظوری کے بغیر اس پیمانے پر یکطرفہ ٹیکس عائد کریں۔ اس عدالتی حکم کے نفاذ کے لیے وزارتِ خزانہ اور متعلقہ اداروں نے ہنگامی بنیادوں پر لائحہ عمل تیار کیا ہے تاکہ متاثرہ کاروباری اداروں کو جلد از جلد ان کے مطالبات کے مطابق ری فنڈ جاری کیا جا سکے۔
اقتصادی ماہرین نے اس پیش رفت کو امریکی معیشت اور تجارتی پالیسی کے حوالے سے ایک انتہائی اہم لمحہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے نہ صرف متاثرہ کاروباری طبقے کو بڑی مالی راحت ملے گی بلکہ آئندہ آنے والی حکومتوں کے لیے بھی یہ واضح پیغام ہو گا کہ تجارتی فیصلوں میں قانونی حدود کی پاسداری کتنی ضروری ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے اس عمل کی نگرانی شفاف طریقے سے کی جا رہی ہے تاکہ فنڈز کی بروقت اور منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جا سکے، جس سے ملکی معیشت پر پڑنے والے منفی اثرات کو کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔