Business
امریکہ کی پاکستان کے معدنی شعبے میں سرمایہ کاری میں دلچسپی
امریکہ پاکستان میں تانبے اور اینٹی مونی جیسے اہم معدنی منصوبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کر رہا ہے۔ امریکی سفارتی حکام کے مطابق ریکوڈک منصوبے پر بھی کام جاری ہے تاہم فنانسنگ کے معاملات طے کیے جا رہے ہیں۔
امریکی کمپنیاں پاکستان میں اہم معدنیات کے شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے سرگرم ہو گئی ہیں اور چھوٹے معدنی ذخائر کے ساتھ ساتھ ریکوڈک جیسے بڑے تانبے اور سونے کے منصوبوں میں بھی دلچسپی کا اظہار کر رہی ہیں۔ اسلام آباد میں ایک پس منظر کی بریفنگ کے دوران امریکی سفارت خانے کے ایک سینئر اہلکار نے انکشاف کیا کہ واشنگٹن کی جانب سے عالمی سطح پر اہم معدنیات کی سپلائی چین کو محفوظ بنانے کے لیے خصوصی توجہ دی جا رہی ہے جس میں پاکستان ایک اہم مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے۔ امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک نے پہلے ہی بلوچستان کے میگا پراجیکٹ ریکوڈک کے لیے ایک ارب پچیس کروڑ ڈالر کی فنانسنگ کا وعدہ کیا ہے، اگرچہ اس کے مالیاتی خاکے اور شرائط کو حتمی شکل دینے کا عمل تاحال جاری ہے۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دوسری طرف اسلام آباد میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر کے درمیان دوطرفہ تجارتی مذاکرات کے حوالے سے اہم پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔ وزارت خزانہ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان مجوزہ دوطرفہ تجارتی فریم ورک پر مذاکرات کافی حد تک آگے بڑھ چکے ہیں اور دونوں فریقین نے اس معاہدے کو جلد از جلد حتمی شکل دینے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ واشنگٹن میں انتظامیہ امریکی کمپنیوں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے کہ وہ پاکستان کے چھوٹے کان کنوں سے معدنیات کی خریداری کے معاہدے کریں تاکہ انہیں امریکہ، جرمنی، جنوبی کوریا اور دیگر صنعتی ممالک کی سپلائی چینز تک پہنچایا جا سکے۔
امریکہ اور پاکستان کے درمیان اس تعاون کا مقصد دفاعی، خلائی اور سیمی کنڈکٹر صنعتوں کے لیے درکار تقریباً ساٹھ میں سے بعض اہم معدنیات کا حصول ہے۔ امریکی حکام کے مطابق اس وقت پاکستان کا معدنی شعبہ مجموعی قومی پیداوار میں تقریباً تین فیصد حصہ ڈال رہا ہے جبکہ اکیلا ریکوڈک پراجیکٹ جی ڈی پی میں مزید نصف فیصد اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔ اس کے علاوہ امریکی اسٹریٹجک میٹلز پہلے ہی فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کی فراہم کردہ معدنی کھیپ امریکہ برآمد کر کے اس کی پروسیسنگ کر چکی ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ دونوں ممالک کے مابین تجارتی روابط بتدریج مستحکم ہو رہے ہیں۔
حکام نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ریڈ ٹیپ اور بیوروکریٹک رکاوٹوں کو کم کرنا ناگزیر ہے جبکہ امریکہ مقامی اداروں جیسے کہ جیولوجیکل سروے آف پاکستان کی استعداد کار بڑھانے میں بھی مدد فراہم کر رہا ہے۔ بلوچستان میں سیکیورٹی کے چیلنجز کے باوجود امریکی حکام کا ماننا ہے کہ معدنی شعبے میں بے پناہ ممکنہ فوائد موجود ہیں جن سے نمٹنے کے لیے ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کار روایتی طریقہ کار سے واقف ہیں۔ امریکہ نے پاکستان کو یہ بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ اس دوطرفہ تعاون کا مقصد صرف امریکی مفادات تک محدود نہیں بلکہ اس سے پاکستان کے مقامی ورکرز کی تربیت اور مجموعی معیشت کو بھی طویل المدتی بنیادوں پر فائدہ پہنچے گا۔