LIVE
Loading Breaking News...

خام تیل کی قیمتیں: ڈبلیو ٹی آئی چوراسی ڈالر کے قریب فروخت کا شکار

News Image
امریکہ اور ایران کے درمیان تناؤ میں ممکنہ کمی کی خبروں کے بعد خام تیل کی عالمی منڈی میں قیمتوں پر شدید دباؤ دیکھا جا رہا ہے۔ ڈبلیو ٹی آئی خام تیل چوراسی ڈالر فی بیرل کے لگ بھگ کمزور پوزیشن پر برقرار ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری ہے اور حالیہ دنوں میں ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل چوراسی ڈالر فی بیرل کے قریب شدید فروخت کے دباؤ کی زد میں ہے۔ مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کے مطابق اس صورتحال کی بنیادی وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان تناؤ میں ممکنہ کمی کی امیدیں ہیں، جس سے توانائی کی سپلائی سے جڑے خطرات میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ بین الاقوامی منڈی میں سرمایہ کار اور تجارتی ادارے مشرق وسطیٰ کی تازہ ترین سیاسی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے آثار نمایاں ہونے سے تیل کی سپلائی لائنز محفوظ تصور کی جا رہی ہیں۔ اس سے قبل یہ خدشات ظاہر کیے جا رہے تھے کہ امریکہ اور ایران کے مابین تعلقات میں کشیدگی تیل کی ترسیل میں شدید تعطل کا باعث بن سکتی ہے، جس کی وجہ سے قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا تھا۔ تاہم، حالیہ سفارتی کوششوں اور کشیدگی کو کم کرنے کے بیانات کے بعد مارکیٹ کا رجحان تبدیل ہونا شروع ہو گیا ہے اور فروخت کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔ دوسری جانب، اقتصادی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ عالمی سطح پر طلب اور رسد کے توازن کے ساتھ ساتھ معاشی اشاریے بھی تیل کی قیمتوں کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ اگرچہ موجودہ سطح پر ڈبلیو ٹی آئی کے نرخ کمزور دکھائی دے رہے ہیں، لیکن مستقبل میں آنے والے اقتصادی اعداد و شمار اور سیاسی پیش رفت قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ کا سبب بن سکتی ہے۔ تاجر اور سرمایہ کار آئندہ آنے والے دنوں میں اوپیک پلس کے فیصلوں اور عالمی اقتصادی ترقی کے رفتار کا بھی بغور جائزہ لے رہے ہیں تاکہ مارکیٹ کے اگلے لائحہ عمل کا اندازہ لگایا جا سکے۔