LIVE
Loading Breaking News...

وزیر داخلہ کے بیان پر صنعت کاروں کی خاموشی اور معاشی چیلنجز

News Image
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے نظامِ حکومت کے حوالے سے دیے گئے بیان پر تاجر اور صنعتی رہنماؤں نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تاہم، بیشتر کاروباری شخصیات نے اس معاملے پر کھل کر بات کرنے سے گریز کیا ہے اور اسے ایک سیاسی بیان قرار دیا ہے۔
کراچی: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے نظامِ حکومت کے مکمل انہدام اور اس کے اہم چیلنجز سے نمٹنے میں ناکامی کے بیان پر ملک بھر کے تجارتی اور صنعتی حلقوں میں شدید ہلچل مچ گئی ہے۔ اگرچہ تاجر برادری نے اس بیان کا گہرائی سے جائزہ لیا ہے، لیکن اس کے ممکنہ اثرات پر کھل کر بات کرنے سے گریز کیا جا رہا ہے اور زیادہ تر صنعت کار اس معاملے پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگون نے اس بیان کو معاشی کے بجائے ایک سیاسی بیان قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک کو متعدد سنگین مسائل کا سامنا ہے جو معیشت کی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں اور ان کا فوری حل ناگزیر ہے۔ صنعت کاروں کا کہنا ہے کہ ملک میں توانائی کی بلند قیمتیں پیداواری لاگت کو حد سے زیادہ بڑھا چکی ہیں، جس کی وجہ سے پاکستانی برآمدات بین الاقوامی مارکیٹ میں مسابقت کرنے سے قاصر ہیں۔ ثاقب فیاض مگون نے مزید زور دیا کہ تجارت اور صنعت کی درست سمت میں بحالی کے لیے ٹیکس ادائیگی کی آسانی، کاروبار میں آسانیاں اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔ تاہم، بیشتر کاروباری رہنما نظام کے انہدام کے اس دعوے پر کھل کر بات کرنے کے لیے تیار نہیں اور وہ اسے ایک سیاسی ڈھانچے کا معاملہ قرار دے رہے ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ایسے سیاسی نظام میں سرمایہ کاری جاری رکھیں گے جس کے بارے میں گراؤنڈ پر یہ تاثر ہو، تو ان کا کہنا تھا کہ انہیں ملکی صورتحال کو پوری طرح سمجھنے کے لیے مزید وقت درکار ہے۔ کاروباری حلقوں کا کہنا ہے کہ اس قسم کے بیانات نے پہلے سے موجود سیاسی اور معاشی عدم استحکام میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ صنعت کاروں کے مطابق خطے میں جاری کشیدگی، توانائی کی غیر مستحکم قیمتوں اور مشرق وسطیٰ کے حالات نے ملکی معیشت کو پہلے ہی دباؤ میں رکھا ہوا ہے۔ خلیجی ممالک کی منگوں تک رسائی مشکل ہو چکی ہے اور غیر ملکی سرمایہ کاری مسلسل جمود کا شکار ہے۔ بعض کاروباری ذرائع نے وزیر داخلہ کے اس مؤقف کی تائید بھی کی ہے کہ گورننس کا نظام شدید دباؤ میں ہے، جس کی وجہ سے صنعت کاروں کو انتہائی محتاط حکمت عملین اپنانی پڑ رہی ہے۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ سرمایہ کاری کے بغیر شرح نمو کو مطلوبہ ہدف تک پہنچانا ممکن نہیں، جبکہ خلیجی جنگ اور خطے کے حالات نے ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں دونوں کے لیے غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے۔