LIVE
Loading Breaking News...

خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کا اسلام آباد مارچ کا اعلان اور پی ٹی آئی احتجاج

News Image
پاکستان تحریک انصاف نے بانی چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے تین سال مکمل ہونے پر ملک بھر میں احتجاجی ریلیاں نکالی ہیں۔ اس موقع پر خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف مارچ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف نے اپنے بانی چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے تین سال مکمل ہونے پر ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں منعقد کیں۔ اس موقع پر خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے دھمکی دی ہے کہ اگر عمران خان اور بشریٰ بیبی کے مقدمات میرٹ پر نہ سنے گئے اور ان کی ملاقاتوں پر سے پابندیاں نہ ہٹائی گئیں تو پارٹی آئندہ ماہ 27 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف مارچ کرے گی۔ پشاور میں منعقدہ ایک بڑے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر عدلیہ آزاد ہوتی اور مقدمات کا فیصلہ میرٹ پر کرتی تو عمران خان اب تک رہا ہو چکے ہوتے۔ جلسے میں بڑی تعداد میں کارکنان اور عوام نے شرکت کی جبکہ پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور صوبائی صدر جُنید اکبر خان نے بھی شرکاء سے خطاب کیا۔ دوسری جانب لاہور اور کراچی سمیت ملک کے دیگر حصوں میں بھی احتجاجی مظاہرے دیکھنے میں آئے جہاں پولیس اور مظاہرین کے درمیان آنکھ مچولی جاری رہی۔ لاہور میں سول سیکرٹریٹ اور سول کورٹس کے قریب پی ٹی آئی سنٹرل پنجاب کی قیادت میں ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی جس میں سینکڑوں کارکنان نے شرکت کی۔ پی ٹی آئی رہنماؤں کے مطابق پولیس نے پُرامن مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا اور ایک رکن قومی اسمبلی (എം این اے)، چار اراکین صوبائی اسمبلی (ایم پی ایز) سمیت متعدد کارکنان کو حراست میں لے لیا۔ پولیس نے اس دوران پریس کی کوریج کرنے والے صحافیوں کو بھی نشانہ بنایا جبکہ فیصل آباد، ملتان، راولپنڈی اور دیگر اضلاع میں بھی احتجاج ریکارڈ کیے گئے۔ کراچی میں بھی کراچی پریس کلب کے باہر احتجاج کو روکنے کے لیے پولیس نے تمام راستے کنٹینرز لگا کر بند کر دیے اور شدید آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج کا استعمال کیا۔ پولیس کارروائی کے باوجود پی ٹی آئی کے کارکنان زینب مارکیٹ کے قریب جمع ہونے میں کامیاب ہو گئے جہاں انہوں نے دھرنا دیا اور مظاہرہ کیا۔ اس سکیورٹی آپریشن اور تصادم کے باعث شہر کے مرکزی تجارتی علاقوں میں ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو گیا اور کاروبار قبل از وقت بند کرنے پڑے۔ پی ٹی آئی قیادت کا کہنا ہے کہ تمام تر حکومتی رکاوٹوں اور دباؤ کے باوجود عوام نے عمران خان کی حمایت میں سڑکوں پر نکل کر ثابت کر دیا ہے کہ وہ جمہوری جدوجہد سے پچھے نہیں ہٹیں گے۔