Politics
الیکشن کمیشن کا ارکان اسمبلی کے اثاثوں کی جانچ کیلیے اختیارات مانگنے کا فیصلہ
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے الیکشن رولز 2017 میں ترمیم کی تجویز پیش کی ہے تاکہ قانون سازوں کے اثاثوں اور واجبات کے بیانات کی براہ راست تصدیق کی جا سکے۔ مجوزہ ترامیم کے تحت کسی بھی ابہام کی صورت میں کمیشن متعلقہ رکن یا کسی بھی مالیاتی ادارے سے وضاحت طلب کرنے کا مجاز ہوگا۔
اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے الیکشن رولز 2017 میں ایک اہم ترمیم کی تجویز پیش کی ہے جس کا مقصد قانون سازوں کی جانب سے جمع کروائے جانے والے اثاثوں اور واجبات کے بیانات کی براہ راست تصدیق اور وضاحت کے لیے اختیارات حاصل کرنا ہے۔ ایک باضابطہ نوٹیفکیشن کے مطابق، ای سی پی نے رول 137 میں ایک نیا پروویزو شامل کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے تاکہ اس عمل کو قانونی طور پر مزید موثر بنایا جا سکے۔ اس مجوزہ تبدیلی کے تحت، اگر کسی بھی پارلیمنٹرین یا رکن صوبائی اسمبلی (ایم پی اے) کے جمع کردہ دولت کے بیان میں کوئی ابہام پایا جاتا ہے، تو الیکشن کمیشن کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ متعلقہ رکن، کسی بھی شخص، محکمے، تنظیم یا مالیاتی ادارے سے اس بارے میں براہ راست وضاحت طلب کرے۔
مسودے کے ضوابط کے مطابق اس عمل میں شامل تمام متعلقہ ادارے کمیشن کی جانب سے مقرر کردہ وقت کے اندر کسی بھی استفسار یا وضاحت کا جواب دینے کے پابند ہوں گے۔ الیکشن کمیشن نے عوامی مشاورت کے لیے اس مسودے کو اپنی سرکاری ویب سائٹ پر اپ لوڈ کر دیا ہے اور اس پر 15 اگست تک اعتراضات اور تجاویز طلب کی گئی ہیں۔ کمیشن کی جانب سے ان اعتراضات پر باقاعدہ سماعت کی جائے گی اور حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ قانونی طور پر نوٹیفائی ہونے کے بعد، یہ ترمیم قانون سازوں اور متعلقہ اداروں کو ایک مقررہ وقت کے اندر ای سی پی کو مطلوبہ معلومات فراہم کرنے کا پابند بنا دے گی، جس سے ملکی سیاست میں شفافیت کو فروغ ملے گا۔
یہ اہم قدم ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب الیکشن کمیشن قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے میپ) کے سربراہ محمود خان اچکزئی کے خلاف تین مقدمات کی سماعت کر رہا ہے، جن میں سے ایک کیس براہ راست ان کے اثاثوں اور واجبات کے بیان سے متعلق ہے۔ ان مقدمات کی سماعت 15 اگست کی ڈیڈ لائن کے چار دن بعد یعنی 19 اگست کو مقرر کی گئی ہے۔ الیکشن کمیشن کے اس اقدام کو سیاسی حلقوں میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اس سے انتخابی نظام اور قانون سازوں کے مالیاتی احتساب کے عمل کو مزید شفاف اور سخت بنایا جا سکے گا۔