LIVE
Loading Breaking News...

معاشی ترقی اور روزگار کا بحران: جنوبی ایشیا کی معیشت کا تناظر

News Image
جنوبی ایشیا میں تیز رفتار معاشی ترقی کے باوجود نوجوانوں کے لیے معیاری ملازمتوں کا فقدان ایک سنگین بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق، معاشی ترقی کی رفتار اکیلے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے ناکافی ہے اور پالیسی سازوں کو ڈھانچہ جاتی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔
بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ کی حکومت کا خاتمہ ہو یا پھر بھارت میں نوجوانوں کی طرف سے بے روزگاری کے خلاف احتجاج، یہ تمام واقعات جنوبی ایشیا میں ایک مشترکہ اور سنگین بحران کی عکاسی کرتے ہیں۔ خطے میں مضبوط معاشی ترقی کے باوجود تعلیم یافتہ اور ہنر مند نوجوانوں کے لیے مناسب اور معیاری ملازمتیں پیدا نہیں ہو سکیں۔ جیسے جیسے تعلیمی اداروں تک رسائی بڑھی ہے، لوگوں کی روزگار سے وابستہ توقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے، لیکن محدود جاب مارکیٹ ان توقعات پر پورا اترنے میں ناکام رہی ہے، جس کے باعث معاشرے میں وسیع پیمانے پر بے چینی پائی جاتی ہے۔ اقتصادی اصولوں کے مطابق معیشت کی ترقی کا عمل اس وقت آگے بڑھتا ہے جب کارکن کم پیداوار والے شعبوں سے نکل کر زیادہ پیداواری فیکٹریوں اور سروسز کے شعبے کا رخ کرتے ہیں۔ لیکن بھارت، بنگلہ دیش اور پاکستان جیسے ممالک اس عمومی نظریے سے ہٹ کر ایک پیچیدہ تصویر پیش کرتے ہیں۔ بھارت اور بنگلہ دیش نے گزشتہ تین دہائیوں کے دوران سالانہ چھ سے سات فیصد تک کی مستحکم معاشی ترقی برقرار رکھی ہے، جبکہ پاکستان کی شرح نمو تین سے چار فیصد کے درمیان رہی ہے۔ اس کے باوجود ان میں سے کوئی بھی ملک اتنی بڑی تعداد میں باقاعدہ اور پیداواری روزگار پیدا کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا جتنا کہ افرادی قوت کی بڑھتی ہوئی تعداد کا تقاضا تھا۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ شرح نمو اکیلی اس قلت کی تشریح نہیں کرتی، بلکہ معیشت کی نوعیت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ بھارت میں اگرچہ زرعی شعبے کی جی ڈی پی میں حصہ داری 1990 کے 35 فیصد سے کم ہو کر 2025 تک سولہ فیصد پر آ گئی ہے، تاہم اب بھی کل افرادی قوت کا ایک بڑا حصہ زراعت سے وابستہ ہے۔ اس شعبے میں مزدوروں کا دباؤ برقرار ہے اور زرعی پیداوار میں توقع کے مطابق خاطر خواہ بہتری نہیں آ سکی، جس کی وجہ سے دیہی علاقوں میں پائیدار ملازمتوں کی شدید کمی ہے۔ دوسری جانب، ٹیکنالوجی اور جدید خدمات کا شعبہ معیشت میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے، لیکن یہ شعبہ انتہائی ہنر مند افراد تک محدود ہے۔ مثال کے طور پر، بھارت کا آئی ٹی سیکٹر دنیا بھر میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے اور اربوں ڈالر کی سالانہ آمدنی پیدا کرتا ہے، لیکن یہ شعبہ ملکی افرادی قوت کا محض ایک فیصد حصہ ملازمت فراہم کرتا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) اور آٹومیشن کے بڑھتے ہوئے رجحان نے کم ہنر مند کارکنوں کے لیے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے کیونکہ جدید ٹیکنالوجی تیزی سے روایتی ملازمتوں کو ختم کر رہی ہے۔ اس صورتحال نے پالیسی سازوں کے سامنے ایک پیچیدہ دوطرفہ چیلنج کھڑا کر دیا ہے کہ کس طرح ملک کو تکنیکی لحاظ سے عالمی سطح پر مسابقتی رکھا جائے اور ساتھ ہی لاکھوں ایسے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں جو جدید تکنیکی تعلیم سے محروم ہیں۔