LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں سیاسی بحران کے خاتمے کے لیے قومی مذاکرات کا مطالبہ

News Image
وفاقی وزیر داخلہ کے حالیہ بیان کے بعد ملک میں سیاسی جماعتوں کے درمیان بات چیت اور مفاہمت کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔ سیاسی تناؤ کو کم کرنے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے سنجیدہ اور پائیدار مذاکرات کا آغاز کرنا ہوگا۔
اسلام آباد میں ایک حالیہ سیمینار کے دوران وزیر داخلہ محسن نقوی کے دیے گئے بیانات نے ملک کے سیاسی منظر نامے میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ ان کے اس مؤقف پر کہ سیاسی جماعتوں کو باہمی اختلافات بھلا کر گورننس کے امور اور قومی مسائل پر بات چیت شروع کرنی چاہیے، سیاسی حلقوں میں گہرے تبصرے کیے جا رہے ہیں۔ چونکہ وزیر داخلہ کو فیصلہ ساز حلقوں کے قریب سمجھا جاتا ہے، اس لیے ان کے اس بیان کو خاصی اہمیت دی جا رہی ہے اور سیاسی پنڈت اس کے گہرے مضمرات پر غور کر رہے ہیں۔ اس لڑی کو آگے بڑھاتے ہوئے جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے بھی کوئٹہ میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران قومی مسائل کے حل کے لیے ایک بڑی آل پارٹیز کانفرنس بلانے پر زور دیا ہے، اگرچہ انہوں نے نئے صوبوں سے متعلق وزیر اختلاف پر تنقید بھی کی تھی۔ دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے بھی گزشتہ ماہ تمام اہم فریقین، اسٹیبلشمنٹ اور سول سحر کے مابین گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کا مطالبہ کیا تھا۔ تمام سیاسی جماعتوں کے اس متفقہ احساس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ صرف طاقت یا جبر کے ذریعے ملک کے سیاسی اور سیکیورٹی چیلنجز سے عہدہ برآ نہیں ہوا جا سکتا۔ اس وقت پاکستان کو درپیش مسائل انتہائی سنگین نوعیت کے ہیں جن میں دو صوبوں میں پرتشدد شورشیں، ملک بھر میں پایا جانے والا معاشی واقتصادی عدم اطمینان اور ہر سرحد پر موجود جغرافیائی و سیاسی عدم استحکام شامل ہیں۔ ان تمام چیلنجز کا تقاضا ہے کہ ایک متحدہ قومی ردعمل سامنے لایا جائے کیونکہ منقسم سیاسی قوتیں ان بحرانوں کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہیں گی۔ অতীতে بھی سال دو ہزار بائیس کے بعد سیاسی گہما گہمی کو ختم کرنے کی کوششیں کی گئیں لیکن وہ بارآور ثابت نہ ہو سکیں۔ اس کے باوجود جب اقتدار کے قریب سمجھے جانے والے حلقے اور اپوزیشن دونوں اس بات پر متفق ہوں کہ مذاکرات ناگزیر ہیں، تو مفاہمت کی ایک نئی کوشش ضرور کی جانی چاہئے۔ اگرچہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان عدم اعتماد کی خائین بہت گہری ہے اور یہ عمل آسان نہیں ہوگا، لیکن تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ دو دہائیوں قبل پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے 'میثاق جمہوریت' پر دستخط کر کے ماضی کی تلخیوں کو بھلایا تھا اور جمہوریت کی مضبوطی کا عہد کیا تھا۔ بالکل اسی طرز پر موجودہ ڈیڈلاک کو ختم کرنے کے لیے بھی لائحہ عمل تیار کیا جا سکتا ہے۔ شرط یہ ہے کہ تمام فریقین کو مکمل سیاسی آزادی حاصل ہو اور بنیادی حقوق کا مکمل احترام کیا جائے۔ سیاست میں اختلافات فطری عمل ہیں لیکن اگر انہیں جمہوری اور پارلیمانی روایات کے مطابق سلجھایا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ ملک کو موجودہ دلدل سے باہر نہ نکالا جا سکے۔ حکومتی اتحاد اور اپوزیشن کو قومی مفاہمت کے اس بیانیے کی بھرپور تائید کرنی چاہیے تاکہ ملکی بہتری کی طرف سفر کا آغاز کیا جا سکے