LIVE
Loading Breaking News...

مشرق وسطیٰ کی صورتحال: کیا دنیا ایک اور بڑی جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے؟

News Image
مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات خطے میں ایک وسیع جنگ کی صورت اختیار کر رہے ہیں جس نے عالمی امن کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ امریکی انتظامیہ کی خاموشی اور نیتن یاہو کے حالیہ دورے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال نے کئی اہم سفارتی سوالات کو جنم دیا ہے۔
مشرق وسطیٰ کے خطے میں جاری کشیدگی اب ایک ایسے مقام پر پہنچ چکی ہے جہاں مقامی تنازعات کے ایک بڑی عالمی جنگ میں تبدیل ہونے کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ موجودہ حالات اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ خطے کے ممالک کے مابین پیدا ہونے والی تلخی اب صرف سرحدی جھڑپوں تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ ایک بڑے طوفان کی پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر عالمی طاقتوں نے بروقت اور ٹھوس سفارتی اقدامات نہ کیے تو یہ آگ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت اور سیکیورٹی پر بھی مرتب ہوں گے۔ اس ضمن میں نیتن یاہو کے حالیہ دورہ واشنگٹن اور وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقاتوں کے نتائج کے حوالے سے چھائی ہوئی پراسرار خاموشی بہت کچھ بیان کر رہی ہے۔ حیران کن طور پر کسی بھی اعلیٰ امریکی سرکاری عہدیدار کا ایئرپورٹ پر استقبال کے لیے موجود نہ ہونا، دونوں ممالک کے مابین موجود سفارتی دوری اور پالیسیوں میں موجود خلیج کو واضح کرتا ہے۔ یہ خاموشی اس بات کی علامت سمجھی جا رہی ہے کہ امریکی انتظامیہ کے اندر بھی ان تنازعات سے نمٹنے کے لیے کوئی واضح لائحہ عمل موجود نہیں ہے، اور شاید موجودہ قیادت کے لیے سب سے بڑی کامیابی یہی ہوگی کہ وہ ان متعدد تنازعات کو ایک بڑی عالمی جنگ میں تبدیل ہونے سے روک سکے۔ دوسری جانب، سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکمت عملی اور ان کے بیانات بھی اس پورے معاملے میں ایک اہم عنصر ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں مشرق وسطیٰ میں جو پالیسیاں اپنائی گئی تھیں، ان کے نتائج اب کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔ موجودہ حکومت کے لیے چیلنج یہ ہے کہ وہ ایک طرف اپنے پرانے اتحادیوں کو برقرار رکھے اور دوسری طرف خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ایسی راہیں تلاش کرے جو کسی بڑی تباہی کا باعث نہ بنیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے چند ہفتے نہایت فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں، کیونکہ خطے میں جاری کشیدگی اب برداشت کی حدود کو پار کر رہی ہے۔ مجموعی طور پر، مشرق وسطیٰ کا سیاسی منظر نامہ اس وقت ایک انتہائی نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ اگر عالمی برادری نے سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا تو یہ تنازعات نہ صرف مقامی آبادی کے لیے مزید مشکلات پیدا کریں گے بلکہ دنیا بھر میں توانائی کے بحران اور اقتصادی بدحالی کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔ امریکی حکومت کی جانب سے اختیار کردہ سرد مہری یہ ظاہر کرتی ہے کہ واشنگٹن اب اس خطے میں مزید براہِ راست الجھنے سے گریزاں ہے، تاہم حالات اس حد تک خراب ہو چکے ہیں کہ اب لاتعلقی بھی ایک آپشن نہیں رہی۔