World
ایران عمان آبنائے ہرمز معاہدہ حتمی مراحل میں داخل
ایران نے تصدیق کی ہے کہ عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز کے حوالے سے اہم معاہدہ آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔ اس ممکنہ معاہدے کے تحت ایران کو آنے والی بحری ٹریفک پر کنٹرول ملنے کی توقع ہے۔
تہران: بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز کے امور پر ایک اہم معاہدہ اب اپنے آخری اور حتمی مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔ یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی اور سفارتی سرگرمیاں دونوں عروج پر ہیں۔ مبصرین کے مطابق، اس معاہدے کے طے پانے سے عالمی سمندری تجارت اور خطے کی سلامتی پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس مجوزہ معاہدے کے تحت ایران کو آبنائے ہرمز میں آنے والی بحری ٹریفک پر نمایاں کنٹرول حاصل ہو جائے گا۔ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین تیل بردار بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی توانائی کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔ اس لیے اس خطے میں کسی بھی قسم کی انتظامی تبدیلی یا معاہدے کو عالمی سطح پر انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب، مختلف بین الاقوامی خبر رساں اداروں اور مالیاتی منڈیوں میں بھی اس خبر کے بعد ہلچل دیکھی گئی ہے۔ وال اسٹریٹ جنرل اور دیگر ذرائع نے بھی تصدیق کی ہے کہ ایران اور عمان کے درمیان یہ بات چیت اب عملی جامہ پہننے کے قریب ہے۔ امریکی اور عالمی منڈیوں میں اس ممکنہ پیشرفت کے مثبت معاشی اثرات بھی محسوس کیے جا رہے ہیں، کیونکہ سرمایہ کار خطے میں استحکام کی ہر علامت کا خیرمقدم کر رہے ہیں۔
تاحال تہران نے امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی تردید کی ہے، لیکن عمان کی وساطت سے ہونے والی ان سفارتی کوششوں کو انتہائی نتیجہ خیز قرار دیا جا رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس معاہدے کے باضابطہ اعلان کے بعد خطے کی سیاست اور بحری نقل و حرکت پر اس کے دور رس نتائج سامنے آنے کی توقع ہے۔