World
لبنان میں دھماکہ، دو اسرائیلی فوجی ہلاک اور چار زخمی
جنوبی لبنان میں ہونے والے ایک بم دھماکے میں دو اسرائیلی فوجی ہلاک اور چار شدید زخمی ہو گئے ہیں۔ جون میں ہونے والی عارضی جنگ بندی کے بعد حزب اللہ کے ساتھ جھڑپوں میں یہ اسرائیلی فوجیوں کی پہلی ہلاکتیں ہیں۔
جنوبی لبنان کے علاقے میں ایک دیسی ساختہ بم (IED) کے دھماکے کے نتیجے میں دو اسرائیلی فوجی ہلاک اور چار شدید زخمی ہو گئے ہیں۔ اسرائیلی دفاعی فورسز (IDF) کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ ہلاکتیں ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن قائم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ جون کے مہینے میں طے پانے والی جنگ بندی کے بعد سے حزب اللہ کے ساتھ جھڑپوں میں اسرائیلی فوج کا یہ پہلا بڑا جانی نقصان ہے، جس سے خطے میں ایک بار پھر سے جنگ کے بادل منڈلانے لگے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج کے ریزرو اہلکار جنوبی لبنان کے اندر کارروائیوں میں مصروف تھے کہ اس دوران وہ ایک دھماکا خیز مواد کی زد میں آ گئے۔ اس واقعے میں زخمی ہونے والے چار دیگر فوجیوں کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے ہیلی کاپٹر کے ذریعے اسرائیل کے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ اس واقعے کے فوراً بعد اسرائیلی فضائیہ نے جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں میں دوبارہ سے فضائی حملے شروع کر دیے ہیں، جس کے نتیجے میں مقامی آبادی میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے اور دھوئیں کے سیاہ بادل آسمان پر چھا گئے ہیں۔
یہ حالیہ کشیدگی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دوسری طرف روم میں بین الاقوامی سطح پر مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے تاکہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان طویل المدتی امن معاہدے کی راہ ہموار کی جا سکے۔ سفارتی حلقوں کا ماننا ہے کہ اس تازہ واقعے کے بعد امن مذاکرات پر شدید منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور فریقین کے درمیان عسکری کارروائیوں میں مزید تیزی آ سکتی ہے۔ بین الاقوامی برادری نے دونوں اطراف سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ خطے کو ایک اور بڑی جنگ سے بچایا جا سکے، تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس انتہائی کشیدہ نظر آ رہے ہیں۔