Pakistan
لاہور ایوانِ عدل احتجاج: پی ٹی آئی کے وکلا اور حامی گرفتار، صحافی پر تشدد
لاہور میں ایوانِ عدل کے باہر پاکستان تحریک انصاف کے وکلا اور حامیوں کے احتجاج کے دوران پولیس نے کریک ڈاؤن کرتے ہوئے درجنوں افراد کو گرفتار کر لیا۔ اس کارروائی کے دوران مبینہ طور پر پولیس کی جانب سے میڈیا کے نمائندوں بالخصوص ایک صحافی پر بھی تشدد کیا گیا اور انہیں حراست میں لیا گیا۔
لاہور میں ایوانِ عدل کے باہر تحریک انصاف کے وکلا اور حامیوں کی جانب سے نکالے جانے والے احتجاجی جلوس کے دوران پولیس اور مظاہرین کے مابین شدید کشیدگی دیکھنے میں آئی۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے درجنوں تحریک انصاف کے حامیوں اور وکلا کو گرفتار کر لیا ہے، جس کے بعد شہر کے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ احتجاج ایک ایسے وقت میں کیا جا رہا تھا جب پولیس نے سکیورٹی کے سخت انتظامات کر رکھے تھے۔ مظاہرین نے حکومت کے خلاف نعرے بازی کی اور اپنے مطالبات کے حق میں شدید احتجاج ریکارڈ کرایا، تاہم پولیس نے اجتماع کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا۔
اس کریک ڈاؤن کے دوران صرف سیاسی کارکنان ہی نہیں بلکہ ذرائع ابلاغ کے نمائندے بھی پولیس کی کارروائی کی زد میں آئے۔ اطلاعات کے مطابق لاہور میں احتجاج کی کوریج کرنے والے ایک سینئر صحافی کو پولیس اہلکاروں نے مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا اور بعد ازاں انہیں حراست میں بھی لے لیا گیا۔ صحافتی تنظیموں اور مختلف مکاتب فکر کی جانب سے اس واقعے کی شدید مذمت کی گئی ہے اور اسے آزادی صحافت پر براہِ راست حملہ قرار دیا گیا ہے۔ صحافتی حلقوں کا کہنا ہے کہ پیشہ ورانہ فرائض انجام دینے والے میڈیا پرسنز پر تشدد کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہے اور حکومت کو اس معاملے کی غیر جانبدارانہ انکوائری کرانی چاہیے۔
دوسری جانب، تحریک انصاف کی قیادت اور دیگر سیاسی و سماجی تنظیموں نے بھی پولیس کی اس پرتشدد کارروائی کی پُرزور مذمت کی ہے۔ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ پرامن احتجاج کرنا ہر شہری کا آئینی اور جمہوری حق ہے، لیکن موجودہ انتظامیہ طاقت کے بل بوتے پر ہر آواز کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ گرفتار ہونے والے وکلا اور کارکنوں کے لواحقین اور ساتھیوں میں بھی شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام سیاسی کارکنوں اور زیر حراست وکلا کو فوری طور پر رہا کیا جائے بصورت دیگر احتجاج کے دائرہ کار کو مزید وسیع کیا جائے گا۔