World
اسحاق ڈار اور ترک وزیر خارجہ کی ملاقات: بیت المقدس اور فلسطین کی صورتحال پر تبادلہ خیال
پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ترکی کے وزیر خارجہ کے ساتھ ملاقات میں خطے کی صورتحال اور عالمی امور پر تفصیلی گفتگو کی۔ ملاقات میں فلسطین کی تازہ ترین صورتحال اور بیت المقدس کے تقدس کے تحفظ پر خاص طور پر زور دیا گیا۔
پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے اردن کے دورے کے موقع پر ترکی کے وزیر خارجہ کے ساتھ ایک اہم ملاقات کی جس میں علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس ملاقات میں خاص طور پر فلسطین کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور بیت المقدس میں مسلمانوں کے مقدس مقامات کے تحفظ پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ بین الاقوامی برادری کو اسرائیلی جارحیت کو روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اسحاق ڈار نے زور دیا کہ عالمی طاقتوں کو فلسطینیوں کے حقوق کے تحفظ اور ان کی خود مختاری کے لیے عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ خطے میں پائیدار امن قائم ہو سکے۔
اس موقع پر اسحاق ڈار نے اسرائیلی آباد کاروں کی جانب سے مسجد اقصیٰ میں اشتعال انگیز کارروائیوں کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ بیت المقدس پر کسی بھی قسم کی اسرائیلی بالادستی یا قبضے کی کوششوں کو کسی صورت تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ اردن میں ہونے والے وزراء سطح کے اجلاس کے دوران انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان ہمیشہ کی طرح مظلوم فلسطینی عوام کی اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا۔ ترک وزیر خارجہ نے بھی فلسطین میں جاری انسانی المیے پر پاکستان کے موقف کی تائید کی اور باہمی تعاون کو مزید مستحکم کرنے پر زور دیا۔
اردن میں منعقدہ یہ وزارتی اجلاس ایسے وقت میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے جب بیت المقدس کے مقدس مقامات کو اسرائیل کی جانب سے مسلسل خطرات کا سامنا ہے۔ عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق بیت المقدس کے اہم ترین مذہبی مقامات پر اسرائیلی قبضے کا خطرہ تیزی سے بڑھ رہا ہے جس پر عالم اسلام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ اس صورتحال میں پاکستان اور ترکی جیسے اہم مسلم ممالک کا ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہونا اس بات کا عکاس ہے کہ امت مسلمہ مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے متحد ہے۔ اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ بیت المقدس کے اسلامی تشخص کو برقرار رکھنے کے لیے ایک مربوط منصوبہ بندی کی جائے گی جس میں تمام مسلم ممالک کو شریک کیا جائے گا۔
ملاقات کے اختتام پر دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے اور مختلف عالمی فورمز پر ایک دوسرے کے ساتھ قریبی رابطہ رکھنے کا فیصلہ کیا۔ پاکستان اور ترکی کے درمیان تاریخی برادرانہ تعلقات ہیں اور موجودہ دور میں ان تعلقات کو معاشی اور سفارتی سطح پر مزید وسعت دینے کے امکانات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ یہ پیشرفت خطے میں امن کے قیام اور فلسطین کی سفارتی حمایت کے لیے ایک اہم قدم سمجھی جا رہی ہے۔