LIVE
Loading Breaking News...

یوکرین میں شہری ہلاکتوں میں اضافہ، روس کے فضائی حملے جاری

News Image
اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق یوکرین میں روسی میزائل اور ڈرون حملوں میں حالیہ اضافہ شہریوں کے لیے انتہائی تباہ کن ثابت ہوا ہے۔ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے عالمی برادری سے فضائی دفاعی نظام کی فوری فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔
اقوام متحدہ کی جانب سے حال ہی میں جاری کردہ ایک تشویشناک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ یوکرین میں جاری تنازع کے دوران حال ہی میں شہریوں کے لیے سب سے مہلک مہینہ ثابت ہوا ہے۔ روس کی جانب سے یوکرین کے مختلف شہروں پر کیے جانے والے میزائل اور ڈرون حملوں میں شدت دیکھی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں دارالحکومت کیف سمیت کئی علاقوں میں عام شہریوں کی بڑی تعداد جاں بحق ہو چکی ہے۔ رپورٹ کے مطابق صرف حالیہ حملوں میں درجنوں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جبکہ زخمیوں کی تعداد بھی مسلسل بڑھ رہی ہے، جس سے انسانی بحران میں مزید اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ یوکرینی حکام اور عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق، روسی فوج نے اپنی فضائی کارروائیوں میں بیلسٹک میزائلوں کا استعمال بڑھا دیا ہے، جنہیں روکنے میں یوکرین کا دفاعی نظام تاحال مشکلات کا شکار ہے۔ کیف اور دیگر شہروں میں ہونے والے حالیہ حملوں نے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور رہائشی عمارتیں تباہ ہونے سے عام شہریوں میں خوف و ہراس کی فضا قائم ہے۔ صدر ولادیمیر زیلنسکی نے عالمی رہنماؤں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا ہے کہ یوکرین کو اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے فوری طور پر مزید جدید فضائی دفاعی نظام اور انٹرسیپٹرز کی ضرورت ہے تاکہ روسی میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کیا جا سکے۔ دوسری جانب فوجی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ روس کی جانب سے حملوں کی یہ نئی لہر یوکرین کی دفاعی صلاحیتوں کو ٹیسٹ کرنے کے مترادف ہے۔ اگرچہ یوکرینی فورسز اپنی استعداد کے مطابق جواب دے رہی ہیں، لیکن طویل جنگ اور مسلسل حملوں کے باعث دفاعی وسائل پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ اقوام متحدہ نے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کریں۔ اس نازک صورتحال میں عالمی برادری کی جانب سے یوکرین کو درکار امداد فراہم نہ کیے جانے کے خدشات بھی بڑھ رہے ہیں، جس سے مستقبل میں ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خطرہ برقرار ہے۔