LIVE
Loading Breaking News...

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں گراوٹ، ایران اور عمان کے معاہدے کے اثرات

News Image
آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے انتظام کے لیے ایران اور عمان کے درمیان ہونے والی پیش رفت کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی ہے۔ اس پیش رفت نے مشرق وسطیٰ میں تناؤ کم ہونے کی امیدیں پیدا کر دی ہیں جس کا اثر عالمی اسٹاک مارکیٹس پر بھی مثبت ہوا ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ دنوں میں کمی دیکھی گئی ہے جس کی بنیادی وجہ ایران اور عمان کے مابین آبنائے ہرمز سے متعلق جاری مذاکرات میں ہونے والی نمایاں پیش رفت ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ خطے میں سمندری جہاز رانی کے انتظام کو بہتر بنانے اور کشیدگی کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم گزرگاہ سمجھی جاتی ہے، اور یہاں کسی بھی قسم کی پیش رفت براہ راست عالمی سپلائی چین اور قیمتوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اس پیش رفت کے بعد عالمی سرمایہ کاروں میں اطمینان پایا جاتا ہے جس کے باعث تیل کی قیمتوں میں گراوٹ دیکھی گئی۔ اس صورتحال کے اثرات صرف تیل کی مارکیٹ تک محدود نہیں رہے بلکہ عالمی اسٹاک مارکیٹس میں بھی اس کا اثر واضح طور پر نظر آیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایوریج نے ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے جبکہ ایس اینڈ پی 500 اور نیس ڈیک انڈیکس میں بھی تیزی دیکھی گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں مذاکرات کی بحالی اور جاری کشیدگی میں کمی کی امیدوں نے عالمی مالیاتی مارکیٹوں میں ایک نئی روح پھونک دی ہے۔ سرمایہ کاروں کو توقع ہے کہ اگر ایران اور دیگر فریقین کے درمیان سفارتی کوششیں کامیاب رہتی ہیں تو خطے میں استحکام آئے گا جس کے معیشت پر دور رس مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ تجارتی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگرچہ تیل کی قیمتوں میں حالیہ گراوٹ ایک عارضی رجحان ہو سکتی ہے، تاہم یہ اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مارکیٹیں سفارتی پیش رفت پر کس قدر حساس ردعمل دیتی ہیں۔ ایران اور عمان کے درمیان اس ممکنہ سمجھوتے کا مقصد آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری ٹریفک کو بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رکھنا ہے، تاکہ تیل کی سپلائی لائنوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا یہ مذاکرات حتمی معاہدے کی شکل اختیار کرتے ہیں یا نہیں، کیونکہ اس پر خطے کی معاشی صورتحال کا دارومدار ہے۔ فی الحال مارکیٹ تجزیہ کار احتیاط کے ساتھ اس صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ مستقبل کے رجحانات کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔