LIVE
Loading Breaking News...

برطانیہ آرمی کالج میں جنسی زیادتی کے واقعات: متاثرہ لڑکیوں کی ہمت والی گواہی

News Image
برطانیہ کے آرمی فاؤنڈیشن کالج میں زیر تربیت نوعمر لڑکیوں نے اپنے ساتھ پیش آنے والے جنسی زیادتی اور ہراسانی کے واقعات کا انکشاف کیا ہے۔ یہ واقعات اس وقت پیش آئے جب یہ لڑکیاں وہاں 17 سال کی عمر میں فوجی تربیت حاصل کر رہی تھیں۔
برطانیہ کے ہاروگیٹ میں واقع آرمی فاؤنڈیشن کالج اس وقت شدید تنازع کی زد میں آ گیا ہے جب متعدد نوجوان خواتین نے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ انہیں اپنی تربیت کے دوران شدید جنسی زیادتی، ہراسانی اور بدسلوکی کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ خواتین، جو اس وقت 17 سال کی عمر میں کالج میں زیر تربیت تھیں، کا کہنا ہے کہ وہاں کا ماحول ان کے لیے انتہائی غیر محفوظ تھا اور انہیں اپنے کیریئر کے ابتدائی دنوں میں ہی تلخ تجربات سے گزرنا پڑا۔ متاثرہ لڑکیوں نے بی بی سی کو بتایا کہ کالج کیمپس کے اندر موجود سینئر کیڈٹس اور دیگر افراد نے ان کی کم عمری اور مجبوری کا فائدہ اٹھایا۔ متاثرہ خواتین کی جانب سے لگائے گئے الزامات نے برطانوی عسکری حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کالج میں جنسی ہراسانی کے واقعات معمول کا حصہ بن چکے تھے اور کئی بار شکایات کرنے کے باوجود انتظامیہ کی جانب سے کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کی گئی۔ یہ انکشافات برطانوی فوج میں خواتین کی شمولیت اور ان کی حفاظت کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھا رہے ہیں۔ ان خواتین کا مزید کہنا تھا کہ کالج میں موجود کلچر ایسا تھا کہ جہاں شکایت کرنے والی لڑکی کو ہی قصوروار ٹھہرایا جاتا تھا یا پھر اسے ڈرا دھمکا کر خاموش کر دیا جاتا تھا۔ برطانوی فوج کے ترجمان نے ان الزامات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ فوج اپنے جوانوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے اور کسی بھی قسم کی بدتمیزی یا ہراسانی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان الزامات کی شفاف تحقیقات کی جائیں گی تاکہ ذمہ داران کا تعین ہو سکے۔ تاہم، انسانی حقوق کی تنظیموں اور سماجی کارکنوں نے مطالبہ کیا ہے کہ صرف داخلی تحقیقات کافی نہیں بلکہ اس معاملے کی آزادانہ تحقیقات ہونی چاہیے تاکہ ان متاثرہ لڑکیوں کو انصاف مل سکے اور مستقبل میں ایسی घटनाओं کا سدباب ممکن ہو سکے۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب برطانوی فوج اپنے اندر موجود ایسے منفی رجحانات کو ختم کرنے کے لیے اصلاحات کا دعویٰ کر رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آرمی فاؤنڈیشن کالج جیسے تربیتی مراکز میں خواتین کو محفوظ ماحول فراہم نہیں کیا جا سکتا تو فوج میں خواتین کی بھرتی کا عمل بری طرح متاثر ہو سکتا ہے۔ متاثرہ لڑکیوں کی ہمت اور ان کی جانب سے آواز اٹھانے کے بعد اب یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ برطانوی وزارت دفاع کو اپنے تربیتی اداروں میں سخت نگرانی اور اخلاقی ضابطہ اخلاق کو یقینی بنانا ہوگا۔