World
برطانیہ ویزا پالیسی: غیر ملکی ملازمین کی ہائرنگ کے نئے اصول
برطانیہ میں جولائی 2025 سے ویزا قوانین سخت کیے گئے ہیں جن کے تحت گریجویٹ سطح کے ملازمین کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ تاہم، کچھ مخصوص شعبے جیسے کار واش اور ویپ شاپس اب بھی غیر ملکی ماہر ورکرز کو اسپانسر کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔
برطانیہ کی جانب سے غیر ملکی ماہر ورکرز کے حوالے سے ویزا قوانین میں جولائی 2025 سے کی گئی بڑی تبدیلیاں موضوع بحث بنی ہوئی ہیں۔ ان نئی اصلاحات کا بنیادی مقصد ویزا اسکیم کو محدود کرنا اور اسے صرف گریجویٹ سطح کے ملازمین تک پہنچانا تھا، جن کی سالانہ آمدنی کم از کم 41,700 پاؤنڈ مقرر کی گئی ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ ان اقدامات سے مقامی افرادی قوت کو بہتر مواقع ملیں گے اور غیر قانونی امیگریشن پر قابو پایا جا سکے گا۔ تاہم، ان سخت اصولوں کے باوجود، کار واش اور ویپ شاپس جیسے چھوٹے کاروبار اب بھی اپنے غیر ملکی ملازمین کو اسپانسر کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں، جو کہ کئی ماہرین کے لیے حیران کن ہے۔
نئی پالیسی کے مطابق، اگرچہ تنخواہ کی حد میں اضافہ کیا گیا ہے اور اہلیت کے معیارات کو سخت کر دیا گیا ہے، لیکن مخصوص شعبوں کو ابھی بھی کچھ استثنیٰ حاصل ہے جس کی وجہ سے یہ چھوٹے کاروبار اپنی آپریشنل ضروریات پوری کرنے کے لیے غیر ملکی ماہرین کو بلا سکتے ہیں۔ یہ صورتحال حکومت کی امیگریشن پالیسی پر سوالات اٹھا رہی ہے کہ کس طرح ایک طرف اعلیٰ تعلیم یافتہ گریجویٹس کے لیے دروازے بند کیے جا رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف نچلی سطح کے کاروباری ادارے اب بھی اسپانسرشپ لائسنس کے تحت غیر ملکیوں کو ملازمت دے رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس تضاد سے ویزا نظام کی شفافیت متاثر ہو رہی ہے۔
مزید برآں، ہوم آفس کے حکام نے ان قیاس آرائیوں پر کہا ہے کہ ویزا اسکیم کا مقصد معیشت کے ایسے شعبوں کو سہارا دینا ہے جہاں مقامی افراد کی قلت پائی جاتی ہے۔ کار واش اور ویپ شاپس کے حوالے سے سرکاری موقف یہ ہے کہ اگر یہ کاروبار مقررہ شرائط اور قانونی تقاضے پورے کرتے ہیں تو انہیں غیر ملکیوں کو ہائر کرنے سے نہیں روکا جا سکتا۔ اس ضمن میں کاروباری حلقوں میں ملا جلا ردعمل پایا جاتا ہے، جہاں کچھ لوگ اسے معیشت کے لیے مثبت قرار دے رہے ہیں، وہیں کچھ اسے غیر منصفانہ قرار دے رہے ہیں۔ آنے والے مہینوں میں اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ کیا حکومت ان قوانین میں مزید سختی کرے گی یا موجودہ ڈھانچہ برقرار رہے گا۔