LIVE
Loading Breaking News...

اوڈیسا پر روسی فضائی حملے: یوکرین کی بندرگاہوں کو شدید خطرات

News Image
یوکرین کے ساحلی شہر اوڈیسا میں روسی فوج کی جانب سے شدید میزائل حملوں کا سلسلہ جاری ہے جس سے بندرگاہی تنصیبات کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔ ان حملوں کے بعد سے پورا خطہ غیر محفوظ ہو چکا ہے اور جہاز رانی کے مراکز نشانہ بن رہے ہیں۔
یوکرین کا اہم ساحلی شہر اوڈیسا گزشتہ کچھ عرصے سے روسی جارحیت کا مرکز بنا ہوا ہے۔ بحیرہ اسود کے کنارے واقع اس اسٹریٹجک شہر میں روسی فوج کی جانب سے کیے جانے والے حالیہ حملوں نے پورے خطے کی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، روسی میزائلوں اور ڈرون حملوں نے اوڈیسا کی بندرگاہی تنصیبات کو شدید نشانہ بنایا ہے، جس کے نتیجے میں وہاں موجود تجارتی جہاز تباہ ہو چکے ہیں اور گودیوں کا ڈھانچہ ملبے کا ڈھیر بن گیا ہے۔ ان حملوں کی شدت اتنی زیادہ ہے کہ اب بندرگاہ کے قریب کوئی بھی جگہ محفوظ نہیں سمجھی جا رہی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے یہ نئی حکمت عملی یوکرین کی سمندری تجارت کو مفلوج کرنے کی ایک کوشش ہے۔ اوڈیسا کی بندرگاہیں یوکرین کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں، خاص طور پر زرعی برآمدات کے لیے ان کا کردار کلیدی ہے۔ جب سے روس نے بحیرہ اسود میں اپنی فوجی سرگرمیوں کو تیز کیا ہے، تب سے یوکرینی ساحلوں پر تعینات جہازوں کو براہ راست خطرات کا سامنا ہے۔ تباہ حال جہاز اور آگ کی لپیٹ میں آئے بندرگاہی گودام اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ جنگ اب سمندری حدود کے اندر تک پھیل چکی ہے۔ مقامی حکام اور عینی شاہدین کے مطابق، روسی حملوں کا تسلسل اس قدر اچانک اور تباہ کن ہوتا ہے کہ شہریوں اور بندرگاہی عملے کو سنبھلنے کا موقع بھی نہیں ملتا۔ اگرچہ یوکرینی فضائی دفاعی نظام مسلسل متحرک رہتا ہے، تاہم میزائلوں کی کثیر تعداد اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال نے دفاعی انتظامات کو کمزور کر دیا ہے۔ بین الاقوامی برادری نے ان حملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے عالمی خوراک کی سپلائی چین کے لیے ایک بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔ اوڈیسا کے عوام اب ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں جہاں صبح کا آغاز خوف اور دھماکوں کی آوازوں سے ہوتا ہے۔ مستقبل کے حوالے سے خدشات بڑھ رہے ہیں کہ اگر یہ حملے اسی رفتار سے جاری رہے تو یوکرین کے لیے اپنی سمندری حدود کا دفاع کرنا ناممکن ہو جائے گا۔ عالمی طاقتوں کی جانب سے روس پر دباؤ ڈالنے کی کوششیں جاری ہیں لیکن زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ بحیرہ اسود اب ایک مکمل جنگی زون میں تبدیل ہو چکا ہے۔ اوڈیسا کے متاثرین کے لیے بحالی کا عمل ایک طویل اور مشکل مرحلہ ثابت ہوگا، کیونکہ شہر کی بنیادی تنصیبات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ چکا ہے۔