LIVE
Loading Breaking News...

اسپیس ایکس کے شیئرز کی فروخت: ملازمین کی جانب سے حصص نکالنے کا رجحان

News Image
اسپیس ایکس کے سابق انجینئر آندرے لاوئی نے کمپنی میں اپنے حصص فروخت کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ وہ کمپنی کی کامیابی کے بعد اپنے مالی اثاثوں کو محفوظ بنانے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں۔
ایلون مسک کی زیر قیادت خلائی ٹیکنالوجی کی معروف کمپنی 'اسپیس ایکس' (SpaceX) کے ابتدائی دور کے ملازمین اب اپنی محنت کا پھل سمیٹنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ان میں سے ایک اہم نام آندرے لاوئی کا ہے، جو 2009 میں بطور انجینئر اس کمپنی کا حصہ بنے تھے۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق، لاوئی نے اب کمپنی میں موجود اپنے حصص فروخت کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ انہیں جب بھی موقع ملے گا وہ مزید حصص بیچ کر اپنی سرمایہ کاری کو کیش میں تبدیل کریں گے۔ یہ اقدام کمپنی کے طویل عرصے سے وابستہ ملازمین کے درمیان ایک عام رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔ اسپیس ایکس، جو نجی خلائی پروازوں اور سٹار لنک جیسے بڑے منصوبوں کی بدولت دنیا کی سب سے قیمتی نجی کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے، نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران غیر معمولی ترقی کی ہے۔ اس دوران کمپنی کے حصص کی قدر میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے ابتدائی ملازمین کے لیے یہ ایک منافع بخش موقع بن گیا ہے۔ آندرے لاوئی جیسے انجینئرز جنہوں نے کمپنی کے ابتدائی کٹھن دنوں میں کام کیا، اب اپنی طویل وابستگی کے صلے میں مالی خودمختاری کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ کمپنی کی جانب سے وقتاً فوقتاً اپنے ملازمین کو حصص فروخت کرنے کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں، جس کا مقصد ملازمین کو مالی ترغیب دینا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسپیس ایکس جیسی بڑی کمپنیوں میں ملازمین کا اپنے حصص فروخت کرنا کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ جب کمپنی کی قدر میں بہت زیادہ اضافہ ہو جاتا ہے، تو ملازمین اپنے پورٹ فولیو کو متنوع بنانے کے لیے اپنے حصص کا کچھ حصہ فروخت کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ لاوئی کا یہ بیان کہ 'ہر موقع ملنے پر میں مزید حصص بیچوں گا'، اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنی طویل مدت کی سرمایہ کاری کو اب نقد رقم میں بدل کر مستقبل کے دیگر منصوبوں پر توجہ دینا چاہتے ہیں۔ اسپیس ایکس کا یہ ماڈل دنیا بھر کی ٹیک کمپنیوں میں رائج ہے جہاں ملازمین کو کمپنی کی کامیابی میں شراکت دار بنایا جاتا ہے۔