LIVE
Loading Breaking News...

جے جی بی فیوچرز میں اضافہ اور جاپانی معیشت کی صورتحال

News Image
بین الاقوامی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے رجحان کے بعد جاپانی گورنمنٹ بانڈز (جے جی بی) کے فیوچرز میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ معاشی ہلچل ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جاپانی کرنسی ین چالیس سال کی کم ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔
ٹوکیو: بین الاقوامی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے پس منظر میں جاپانی گورنمنٹ بانڈز (جے جی بی) کے فیوچرز میں مثبت رجحان دیکھا گیا ہے اور ان کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ماہرینِ معیشت کے مطابق توانائی کی گرتی ہوئی قیمتیں جاپان جیسے توانائی درآمد کرنے والے ملک کے لیے اہم اثرات رکھتی ہیں، جس سے مالیاتی منڈیوں میں مختلف ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ اس معاشی پیش رفت نے سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کر لی ہے جو عالمی سطح پر تیل کی رسد اور طلب کے تناسب پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ دوسری جانب جاپانی معیشت کو اس وقت شدید کرنسی پریشر کا بھی سامنا ہے۔ رپورٹس کے مطابق جاپانی ین حالیہ دنوں میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں تاریخی گراوٹ کا شکار ہو کر تقریباً چالیس سال کی کم ترین سطح تک گر چکا ہے۔ امریکی ڈالر کی محفوظ پناہ گاہ کے طور پر مانگ میں اضافے اور عالمی مالیاتی منڈیوں میں بڑھتی ہوئی بے یقینی نے ین کی قدر کو شدید دباؤ میں لا کھڑا کیا ہے۔ زرمبادلہ کی اس کمزوری نے جاپانی پالیسی سازوں اور مرکزی بینک کے لیے نئی مشکلات پیدا کر دی ہیں کیونکہ درآمدات کی لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان چیلنجز کے درمیان جاپانی حکام نے کرنسی مارکیٹ میں غیر مستحکم اور قیاس آرائی پر مبنی رجحانات سے نمٹنے کے لیے کسی بھی فیصلہ کن اقدام کا عندیہ دیا ہے۔ وزیر خزانہ اور دیگر اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ وہ مارکیٹ کے حالات پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں اور ضرورت پڑنے پر کرنسی کی گراوٹ کو روکنے کے لیے مداخلت سے دریغ نہیں کریں گے۔ مرکزی بینک کی آنے والی میٹنگز سے قبل مالیاتی حلقوں میں اس بات چیت میں بھی اضافہ ہو گیا ہے کہ آیا مانیٹری پالیسی میں کوئی بڑی تبدیلی کی جائے گی یا نہیں۔ سرمایہ کار اور تجزیہ کار آئندہ کے معاشی فیصلوں اور شرحِ سود کے حوالے سے مرکزی بینک کے ممکنہ اقدامات کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں تاکہ عالمی منڈی کے نئے رجحانات کا اندازہ لگایا جا سکے۔