LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ: فوجی اہلکاروں کے خاندانوں کی ملک بدری کا معاملہ

News Image
امریکی فوج میں خدمات انجام دینے والے اہلکاروں کے شریک حیات اور والدین کو ملک بدری کے خدشات کا سامنا ہے۔ امیگریشن تحفظ ختم ہونے کے بعد ان خاندانوں کی زندگی شدید غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہو گئی ہے۔
امریکہ میں ایک انتہائی حساس معاملہ سامنے آیا ہے جہاں امریکی فوج میں خدمات انجام دینے والے اہلکاروں کے شریک حیات اور والدین کو ملک بدری اور حراست کا سامنا ہے۔ امیگریشن تحفظ کے پروگراموں کے خاتمے کے بعد، ان خاندانوں کے لیے قانونی رہائش برقرار رکھنا مشکل ہو گیا ہے جو برسوں سے ملک میں مقیم تھے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال ان فوجیوں کے لیے ایک بڑا ذہنی دباؤ ہے جو سرحدوں پر ملک کا دفاع کر رہے ہیں، لیکن گھر پر ان کے اپنے پیارے قانونی غیر یقینی کا شکار ہیں۔ اطلاعات کے مطابق کچھ معاملات میں خاندان کے افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جس نے فوجی برادری میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ ماہرینِ قانون کے مطابق یہ مسئلہ بنیادی طور پر امیگریشن قوانین کے پیچیدہ ڈھانچے کا نتیجہ ہے جس میں فوجی خدمات انجام دینے والوں کے قریبی رشتہ داروں کو مکمل قانونی تحفظ حاصل نہیں ہوتا۔ ماضی میں 'پی رول ان پلیس' (Parole in Place) جیسی پالیسیاں ان خاندانوں کو عارضی ریلیف فراہم کرتی تھیں، لیکن حالیہ پالیسی تبدیلیوں اور سخت گیر امیگریشن اقدامات کے باعث یہ حفاظتی ڈھال کمزور پڑ گئی ہے۔ متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ وہ برسوں سے امریکی معاشرے کا حصہ ہیں اور ان کے بچوں کی پرورش اسی ملک میں ہوئی ہے، لہذا انہیں ملک بدر کرنا اخلاقی اور انسانی لحاظ سے انتہائی تکلیف دہ ہے۔ اس معاملے پر امریکی کانگریس میں بھی بحث کا مطالبہ کیا جا رہا ہے تاکہ فوجی اہلکاروں کے خاندانوں کو خصوصی تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ قانون سازوں کا ایک گروپ مطالبہ کر رہا ہے کہ ان خاندانوں کے لیے امیگریشن کے عمل کو آسان بنایا جائے تاکہ وہ اپنے پیاروں کے ساتھ یکجہتی اور سکون کے ساتھ رہ سکیں۔ تاہم، موجودہ سیاسی منظرنامے میں امیگریشن سے متعلق سخت قوانین پر نظر ثانی کے امکانات فی الحال محدود دکھائی دیتے ہیں۔ فوجی تنظیمیں اب وفاقی حکومت سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ وہ اس انسانی المیے کا فوری نوٹس لیں اور ان افراد کو تحفظ فراہم کریں جنہوں نے ملک کی خدمت کرنے والے فوجیوں کی حمایت کی ہے۔ فی الحال، متاثرہ خاندانوں کی جانب سے قانونی چارہ جوئی کا سلسلہ جاری ہے اور وہ مختلف سماجی تنظیموں کے ساتھ مل کر اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید عوامی دباؤ بڑھنے کا امکان ہے، کیونکہ امریکی فوج کی ساکھ اور مورال براہ راست ان خاندانوں کی فلاح و بہبود سے منسلک ہے۔ نیکسورا نیوز اردو اس حساس معاملے پر نظر رکھے ہوئے ہے اور تازہ ترین پیش رفت سے اپنے قارئین کو آگاہ کرتا رہے گا۔