Business
آبنائے ہرمز میں نئے ٹیکس عالمی تجارت کے لیے خطرہ
آٹھ بڑی شپنگ تنظیموں نے مشترکہ خط میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر کسی بھی قسم کے ٹولز یا فیس عائد کرنے کی مخالفت کی ہے۔ ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے عالمی تجارتی سپلائی چین متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ عام شہریوں کی روزمرہ زندگی بھی شدید بحران کا شکار ہو جائے گی۔
دنیا بھر کی آٹھ بڑی شپنگ تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر کسی بھی قسم کے نئے ٹیکس یا ٹولز عائد کیے گئے تو اس کے اثرات پوری دنیا کی معیشت اور عام لوگوں کے روزگار پر تباہ کن مرتب ہوں گے۔ یہ آبنائے عالمی توانائی کی سپلائی کے لیے ایک کلیدی حیثیت رکھتی ہے اور یہاں سے گزرنے والے بحری جہازوں پر اضافی مالی بوجھ ڈالنے سے ایندھن اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہو سکتا ہے۔ شپنگ انڈسٹری کے نمائندگان نے اس حوالے سے ایک مشترکہ خط جاری کیا ہے جس میں ان تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی تیل اور گیس کی ترسیل کا اہم ترین راستہ ہے، جہاں سے دنیا بھر کا ایک بڑا حصہ اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرتا ہے۔ تنظیموں کا کہنا ہے کہ کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا اضافی ٹیکس کا نفاذ بین الاقوامی تجارتی قوانین کے منافی ہوگا اور اس سے عالمی سپلائی چین میں شدید خلل پیدا ہوگا۔ یہ صورتحال نہ صرف بڑے کاروباری اداروں بلکہ ترقی پذیر ممالک کے عام شہریوں کے لیے بھی مہنگائی کا باعث بنے گی کیونکہ نقل و حمل کے اخراجات بڑھنے سے اشیاء کی قیمتوں میں براہ راست اضافہ ہوگا۔
شپنگ تنظیموں کے اتحاد نے عالمی برادری اور متعلقہ حکام پر زور دیا ہے کہ وہ اس اہم سمندری راستے کو آزادانہ تجارت کے لیے محفوظ رکھیں اور کسی بھی ایسی پالیسی سے گریز کریں جو بین الاقوامی تجارت کی آزادی کو محدود کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شپنگ انڈسٹری پہلے ہی مختلف چیلنجز سے نبردآزما ہے اور ایسے کسی بھی ٹیکس کا نفاذ عالمی بحری نقل و حمل کے نظام کو غیر مستحکم کر سکتا ہے۔ مستقبل کے خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ تنظیمیں عالمی سطح پر سفارتی کوششوں کی اپیل کر رہی ہیں تاکہ اس اہم گزرگاہ کو تنازعات اور مالی بوجھ سے دور رکھا جا سکے۔