Politics
ڈونلڈ ٹرمپ کی عبدالصید کے خلاف سخت الفاظ میں تنقید
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشی گن میں ڈیموکریٹک امیدوار عبدالصید کی کامیابی کے بعد ان پر شدید تنقید کی ہے۔ ٹرمپ نے عبدالصید کو یہودیوں سے نفرت کرنے والا شخص قرار دیتے ہوئے متنازعہ بیان دیا ہے۔
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشی گن میں ڈیموکریٹک پارٹی کے سینیٹ امیدوار عبدالصید پر سخت تنقید کرتے ہوئے انہیں 'یہودیوں سے نفرت کرنے والا' قرار دیا ہے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشی گن کے انتخابی میدان میں سیاسی درجہ حرارت اپنے عروج پر ہے اور دونوں جماعتوں کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یہ الفاظ عبدالصید کی حالیہ انتخابی کامیابیوں کے بعد سامنے آئے ہیں جس نے ریاست کی سیاسی فضا کو گرما دیا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق ٹرمپ کا یہ بیان ان کی روایتی انتخابی مہم کا حصہ ہے جس میں وہ اکثر اپنے حریفوں کو سخت اور متنازعہ القابات سے نوازتے ہیں۔ عبدالصید جو کہ مشی گن کے سیاسی منظر نامے میں ایک ابھرتا ہوا نام ہیں، نے اب تک ان الزامات پر براہ راست ردعمل دینے کے بجائے اپنی انتخابی مہم پر توجہ مرکوز رکھی ہے۔ دوسری جانب ٹرمپ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ سابق صدر کا مقصد صرف ووٹرز کو اپنے حریفوں کے ماضی اور نظریات کے بارے میں آگاہ کرنا ہے جبکہ ناقدین اسے ایک غیر اخلاقی اور تفرقہ انگیز حربہ قرار دے رہے ہیں۔ اس بیان سے ریاست کے یہودی ووٹرز اور دیگر اقلیتوں کے درمیان بھی بحث چھڑ گئی ہے۔ یہ معاملہ مشی گن کی انتخابی سیاست میں ایک نیا موڑ ثابت ہو سکتا ہے جہاں پہلے ہی معاشی اور سماجی مسائل پر شدید تقسیم پائی جاتی ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے اس قسم کی زبان کا استعمال ان کے ووٹرز کو تو متحرک کر سکتا ہے لیکن غیر فیصلہ کن ووٹرز (Swing Voters) کے ذہنوں پر اس کے منفی اثرات مرتب ہونے کا امکان بھی موجود ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا عبدالصید کی جانب سے اس بیان کا کوئی باضابطہ جواب دیا جاتا ہے یا وہ اپنی مہم کو اسی طرح جاری رکھیں گے۔ فی الحال مشی گن کی سیاست اس بیان کے گرد گھومتی دکھائی دیتی ہے جس نے امریکی انتخابی مہم کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔